Discoverخطبات
خطبات
Claim Ownership

خطبات

Author: Rahimia Institute of Quranic Sciences

Subscribed: 28Played: 1,509
Share

Description

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان
Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan
w: www.rahimia.org
FB: @rahimiainstitute
494 Episodes
Reverse
قومِ ثمود کے کردار کی روشنی میں "امن" کے نام پر بدامنی کے عالمی کردار کا جائزہ اور نبوی اقترابی و ارتفاقی عادلانہ نظام کی ناگزیریتخطبۂ جمعۃ المبارکبتاریخ: 3؍ شعبان المعظم 1447ھ / 23؍ جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِقرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنیوَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48) ترجمہ: ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔ حدیثِ نبوی ﷺ:”أن رسولَ اللهِ ﷺ نهى أن تُكْسَر سِكَّةُ المسلمينَ“۔ أخرجه البيهقي (11284) واللفظ له، والحاكم (2233)ترجمہ: ”رسولِ اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مسلمانوں کے رائج سکّوں کو توڑا یا نقصان پہنچایا جائے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ ہر دم پیش آمدہ مسائل اور صراطِ مستقیم پر چلنے کاحکم✔️ انبیاءؑ کی بعثت کا ہدف؛ صراطِ مستقیم کی ہدایت و رہنمائی ✔️ انبیاءؑ کے واسطے سے اقترابات و ارتفاقات کے علوم اور ان کی عملی شکلیں✔️ دور کے علوم الاقترابات و الارتفاقات نبیِ وقت کے ذریعے دنیا میں منتقل ہوتے ہیں✔️ ملاءِ اعلیٰ؛ علوم کا مرکز و منبع اور انسانوں میں سے مقربین بارگاہ الہی اس عمل میں شریک✔️ علوم کے ذریعے سے راہِ ہدایت واضح ہونے کے بعد انسانوں کو اچھے اور برے کا مکمل اختیار✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود کے غلط رویے اور بد اعمالیوں کا تذکرہ✔️ قومِ ثمود کا اپنی تمام تر علمی، عقلی اور عملی صلاحیتوں سے فساد فی الارض مچانا✔️ ’’تسعة رھط‘‘ نو جماعتوں کے سرداروں کا فساد مچانے کا مطلب ✔️ العیاذ باللہ نبیِ وقت (حضرت صالحؑ) کو قتل کرنے کا مزعومہ منصوبہ✔️ نبی اکرمؐ کی آمد کے بعد علوم الاقترابات و الارتفاقات کا واحد ذریعہ ذاتِ گرامیﷺ✔️ کل انسانیت کے لیے رفاقتوں کے آفاقی اصول اور عبادات کا بین الاقوامی منہج‘ رسولِ اکرمؐ نے متعارف کرایا✔️ رحمت کا نظام بنانے میں رسول اللہؐ کے ساتھ کائنات کی مثالی قوتیں شریک کار✔️ وصالِ نبیؐ کے بعد ان قوائے مثالیہ کا خلفائے راشدین کے لیے واضح کردار✔️ بین الاقوامی مالیاتی خرابیاں اور اموی بادشاہ عبدالملک بن مروانؒ کا مالیاتی لین دین کا عادلانہ نظام✔️ مسلمانوں کے غلبے کے بارہ سو سالہ دور میں علوم الارتفاقات و الاقترابات میں حسنہ کا غلبہ برقرار رہا✔️ یورپین بھیڑیوں کا فسادی کردار اور ’’لِمَ تَسۡتَعۡجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِ‘‘ کے عملی مصداق✔️ ظالمانہ عالمی سرمایہ دارانہ ڈھانچہ اور’’وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ‘‘ کا انطباقی پہلو✔️ لوٹ کھسوٹ کے لیے عالمی لیٹرے‘جوتیوں میں دال بَٹنے کے محاورے کے مصداق اور  ’’وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ‘‘ کی قرآنی پیشن گوئی✔️ فسادی طاقتیں اور ان کے دم چھلہ قوتوں کی ناشکری اور امن وعدل کے نام پر بدامنی و فساد کا عالمی بورڈ؟✔️ مسلمان ممالک کی نعمتوں کی ناشکری اور  فسادی کردار کا انجام‘ سیاسی غلامی اور معاشی بدحالی کے عذاب میں مبتلا✔️ آج کے نام نہاد مسلمان ’’وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ‘‘ کے مصداق تو نہیں؟✔️ کیا امن کے نام پر بورڈ بنانا پچھلے سوسالہ بدامنی پیدا کرنے والوں کے منہ پر تماچہ نہیں؟  ✔️ ’’لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ‘‘ کی پکار اور مسلمانوں اور اقوام و ممالک کے لیے بنیادی پیغامhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/منجانب: رحیمیہ میڈیا
فعل الخیرات کے ابراہیمی و محمدی منہج اور اس کے تاریخی تسلسل کی روشنی میں موجودہ دور کے نظامِ جبر کے خلاف جدوجہد کی اہمیتخطبہ جمعۃ المبارک بتاریخ: 26؍ رجب المرجب 1447ھ / 16؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ  قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی: وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ۔ (21 – الأنبیاء: 73)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”اور ہم نے انھیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کیا کرتے تھے اور ہم نے انھیں اچھے کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ ہماری ہی بندگی کیا کرتے تھے“۔ احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ ”‌خَيْرُ ‌النّاسِ ‌مَن ‌يَّنْفَعُ ‌النّاسِ“۔ (المبسوط للسرخسي 30/ 252)ترجمہ: ”لوگووں میں سے بہترین وہ ہے، جو لوگوں کو نفع دے“۔ 2۔ الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُمَا وَجَدَهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4169]ترجمہ: ”حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ انبیاءؑ کی خصوصیت؛ معروضی حالات میں بروقت درست رہنمائی✔️ علم وفکر کی اساس پر قائم محدود عملی شکل ✔️ دو اہم باتیں؛ بروقت حکم و فیصلہ اور اس کے مطابق عملی طریقۂ کار کا تعیّن✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور تشریح و توضیح✔️ مشہور قصے کے تناظر میں حضرت ابراہیمؑ کی رشد وہدایت اور فعل الخیرات؛ غور وفکر کی دعوت اور فعل المنکرات پر تنبیہ✔️ ملتِ ابراہیمی کے ائمہ وھداة کو فعل الخیرات کی وحی اور معروض کے مطابق بے لاگ کردار✔️ حضرت ابراہیمؑ کے فعل الخیرات کے قلوب و اَذہان پر اثرات✔️ ائمۂ ھدیٰ کی دو خصوصیات✔️ کلامِ الہی کی پانچ نشئات نیز نشأةِ نسمہ محمدیﷺ کی وضاحت✔️ اسمِ ہادی کا نورِ محمدیؐ پر ظہور اور تا قیامت فیضان جاری✔️ ہر دور کے نبی کا فعل الخیرات کا منہج اور طریقۂ کار✔️ نورِ محمدیؐ سے انبیاءؑ کے فعل الخیرات کی تکمیل✔️ حضرت عیسیٰؑ رسول اللہؐ کے ارہاص✔️  شریعت و طریقت کے فعل الخیرات پر بحث لیکن سیاست اور غلبۂ دین میں اس سے پہلو تہی✔️ آج افراد و اقوام اور ریاستوں کی غلامی کے دور میں فعل الخیرات کا تعین کرنا ضروری✔️ دورِ زوال میں ولی اللہی سلسلے کے علماء کی خصوصیت؛ دور کے تقاضے کے مطابق فعل الخیرات کے لیے کردار✔️ آج کے فرعون و نمرود اور قیصر وکسریٰ کا مقابلے کرنے کے لیے فعل الخیرات کیا ہے؟ ✔️ مضبوط قومی جمہوریت کی ناگزیریت اور سامراجی کھیل✔️ جمہوریت کے خلاف پیش کی جانے والی آیت کا درست مفہوم✔️ جمہوری جدوجہد کے تناظر میں علمائے حق کے فعل الخیرات کا جائزہ✔️ ائمۂ ھدیٰ کا فعل الخیرات کا کام‘ بطور عبادت اور رضائے الہی کا ذریعہ✔️ زوال کا بڑا سبب اور علم فعل الخیرات کا عصری تقاضا https://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/منجانب: رحیمیہ میڈیا
قرآن حکیم کی نمائندہ انسانی تہذیب کے تناظر میں موجودہ استحصالی ورلڈ آڈر کے انسانیت دشمن کردار کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:19؍ رجب المرجب  1447ھ /9؍ جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیتلَا یَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(8)اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔(الممتحنہ:8-9)ترجمہ: اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تمہیں اللہ انہیں سے منع کرتا ہے کہ جو دین میں تم سے لڑے اور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے پر (لوگوں کی) مدد بھی کی کہ ان سے دوستی کرو اور جس نے ان سے دوستی کی تو پھر وہی ظالم بھی ہیں۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 0:00 آغاز00:59 مظلوم طبقات  کی حفاظت؛ انبیاء کی جدوجہد کا محور06:51  دین اسلام کا بنیادی مقصد؛ ظلم کا خاتمہ، انسانی حقوق کی حفاظت11:29  قومی اور انسانی  وسائل کے متعلق دین کا بین الاقوامی اصول17:46  عالمی استحصالی انجمن اور اس کے ہتھکنڈے20:19  اقوام سے تعلقات کے دینی اصول26:16  مسلم دور کے عالمی نظام کا مروج نظام سے موازنہ 31:25  دین اسلام کا جنگ کا اصول اور تقسیم انسانیت کا سامراجی طریق کار 36:24  باہمی تعاون پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کا دینی اصول 42:25  استحصال کا عالمی نظام اور عدل و انصاف کے مسلم ورثہ کے تعارف کی ضرورتhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/ منجانب رحیمیہ میڈیا
خیر و حکمت کا جامع قرآنی تصور ، اس کے قیام میں امت کے طبقات کا کردار اور معروضی تقاضےخطبہ جمعۃ المبارکبتاریخ: 19؍ رجب المرجب 1447ھ / 9؍ جنوری 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا۔ (2 – البقرۃ: 148)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ) ”اور ہر ایک کے لیے ایک طرف ہے، جس طرف وہ منہ کرتا ہے، پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو، تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو اللہ سمیٹ کر لے آئے گا “۔حدیثِ نبوی ﷺ:اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ۔ (جامع ترمذی، حدیث: 3235)ترجمہ: ” اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں “  ۔۔۔ خطبے کے چند مرکزی نکات ۔۔۔ ✔️فکری سمت کے تعین اور خیر میں سبقت کا  قرآنی حکم✔️خیر بطور منظم عملی نظام، نہ کہ محض نیت یا جذبہ ✔️ہر فرد، خاندان، قوم اور ریاست کی ایک وِجْہَة✔️ بیت المقدس کی طرف سترہ ماہ رخ اور دعوتی حکمت✔️ بیت اللہ الحرام بطور عالمی قبلہ اور دعوت میں تدریج✔️ سمت کے مقابلے میں خیر کی اصل اہمیت اور جامع مفہوم✔️ نیکی میں مقابلہ: فعلُ الخیرات بمقابلہ فعلُ المنکرات✔️خیر کی متحرک حیثیت اور حکمت کے ساتھ اس کی صورت✔️ حکمت بطور خیرِ کثیر کا قرآنی اصول✔️علمُ الحکمة بطور قرآن کا بنیادی اور اولین علم✔️حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی کے دائرے✔️موعظتِ حسنہ کے بعد فعلُ الخیرات کا مرحلہ✔️فعلُ الخیرات بطور امرِ الٰہی کو عملی شکل دینا✔️امامت: وعظ نہیں بلکہ ہدایت بالامر اور اجتماعی نظم✔️حضرت ابراہیمؑ کی امامت اور امام کی دو بنیادی صفات✔️نماز کا عملی نظام بطور فعلُ الخیرات کا نمونہ✔️نَسَمَہ کا اسمِ الہادی سے رنگین ہونا اور عمل کا ظہور✔️ صِبْغَةُ اللّٰہ: عقل، قلب اور نفس کی ہم آہنگی✔️منکر بطور انسانیت دشمن عمل اور ترکُ المنکرات✔️نبوی دعا: فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات کی اہلیت✔️ہر مومن بطور امام اور حدیثِ راعی کا تصور✔️خلفائے راشدین، فقہاء، محدثین اور اولیاء کا منہج✔️فقہی قانون سازی میں حکمت کا تنوع✔️امام بخاریؒ کا حدیثی منہج بطور فعلُ الخیرات✔️اولیاء اللہ کا تزکیۂ نفس اور روحانی تطبیق✔️ہر دور میں حالات کے مطابق فعلُ الخیرات کی تعیین✔️1920 کے بعد ولی اللّٰہی جماعت اور قومی وحدت اور نیشنل ازم ✔️نَسَمَہ کی ہدایت اور فعلُ الخیرات بطور زندگی کا منہج✔️فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات بطور نجات کا قرآنی راستہ منجانب رحیمیہ میڈیا
انسانیت سے بغاوت کے نظاموں کے ردّ میں دین کے سلامتی و مالیاتی اصولوں پر سماجی نظام کی تشکیل کی ضرورت اور نسل نو کے کردار کی اہمیت خطبۂ جمعة المبارک بتاریخ: 12؍ رجب المرجب 1447ھ / 2؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ۔ (3 – آلِ عمران: 19) ترجمہ (از حضرت شیخ الہندؒ) : ”بے شک دین جو ہے اللہ کے ہاں، سو یہی مسلمانی حکم برداری، اور مخالف نہیں ہوئے کتاب والے مگر جب ان کو معلوم ہوچکا آپس کی ضد اور حسد سے، اور جو کوئی انکار کرے اللہ کے حکموں کا تو اللہ جلدی حساب لینے والا ہے“۔  حدیثِ نبوی ﷺ: ”خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ“۔ (الجامع الصحیح للبخاري، حدیث: 6428) ترجمہ: ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔ پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔“🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز1:21 سلامتی کے نظام کا فہم و شعور اور علمی و عملی کردار ادا کرنے کی ضرورت3:28 خطبے کی مرکزی آیت کا ما قبل آیت سے ربط اور مختصر تشریح4:16 دینِ اسلام کے علاؤہ کوئی دین عند اللہ قابل قبول نہیں!6:02 سوسائٹی کے علمی و عملی حقائق پر مشتمل دینِ اسلام کے نظام کا قیام8:41 انسانوں میں دو طرح کی قوتیں کارفرماں نیز علمی گمراہی اور عملی خرابی کی حامل جماعتیں 11:09 اہلِ کتاب کی خرابی؛ انسانیت سے بغاوت اور سلامتی کے نظام کے قیام کا انکار13:34 بغاوت پر قائم ریاستیں اور ممالک اور بقائے انسانیت کے لیے سلامتی کا نظام لازمی و ضروری14:49 بغاوت کی اساس پر دین کے لیے ریلیجن کی اصطلاح‘ سامراجی ہتھکنڈا15:41 اسلام کے دین ہونے کی بنیاد علم پر قائم17:13 نوعِ انسانیت کی بقاء و سلامتی کا سسٹم: معروفات کا حکم اور مُنکرات کی ممانعت 20:48 سلامتی کے نظام کے اصول یکساں لیکن معروض کے مطابق منہج (حکمت عملی) مختلف 23:46 تورات کی شکل میں سلامتی اور انسانی اقدار پر مبنی پہلا آئین اور یہود کی بغاوت24:43 حضرت موسیٰؑ کا تورات کے سلامتی کے نظام کی حفاظت اور نفاد کی وصیت28:02 تیسرے قرن کے بعد نظامِ تورات میں بگاڑ پیدا ہوا28:38 ملکی نظام کی دو اساسیات اور بے اختیار حکومتوں کا تحلیل و تجزیہ31:23 اہلِ کتاب کا اختیارات و وسائل کا غلط استعمال‘ آیت کے تناظر میں ان کی بغاوت کا جائزہ37:09 حضور ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب کا علم ہونے کے باوجود بغاوت و سرکشی کا رویہ42:56 ہر نبی اور ان کی جماعت کا سلامتی کے نظام کے لیے جدوجہد؛ تاریخی جائزہ44:31 سلامتی کے نظام کے لیے اگلی نسلوں کے کردار کی نبویؐ نشان دہی 47:29 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ’’قرن‘‘ کی لاجواب تشریح 50:25 سلامتی و سیاسی نظم و نسق اور مالیاتی ڈسپلن پر مبنی نبویؐ قرن53:15 مربی و رہنما کا مطمح نظر نیز نبی رحمتﷺ کا اہلِ طائف سے حد درجے سلامتی کا طریقہ 55:35 اگلی نسلوں میں سلامتی کے دین کو منتقل کرنے میں حضرت عمر فاروقؓ کا کردار1:00:57 حضرت امیر معاویہؓ کا اگلے دور میں امن و سلامتی کے نظام کے قیام کے لیے بے لاگ کردار1:02:36 حضرت امیر معاویہؓ کا شاہانہ طرزِ حکومت اختیار کرنے کا ہدف و مقصد 1:11:00 حضرت امیر معاویہؓ کے لیے ’’کسری العرب‘‘ کے لقب کا درست  معنی و مفہوم1:11:45 حضرت ابن عباسؓ کی پیدائش کے وقت حضورؐ کی خلافت بنو عباس کی پیشنگوئی 1:14:16 حدیثِ قرونِ ثلاثہ کو سیاست و خلافت کے نظام کے بغیر بیان کرنا‘ ناقص تشریح 1:19:35 یورپین قزاقوں اور بھیڑیوں کا سلامتی کے علی الرغم بدامنی و لوٹ مار پر مبنی بغاوت کا نظام1:23:03 سرمایہ دارانہ نظام؛  علمی بغاوت، انسانی اقدار اور سلامتی کی پامالی1:24:59 اگلی جنریشن کے سوالات و تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت؛ ولی اللہی مشائخ کی امتیازی خصوصیت1:28:44 اگلی جنریشن کے تقاضوں کے مطابق  سلامتی کا سیاسی نظم و نسق اور مالیاتی ڈسپلن کا شعوری فہم اور عملی جہدوجہدبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
سماجی تعمیر  کے لیے توحید و عدل کے اُصول پر صاحِبُ الرائے اجتماعیت کی ضرورت واہمیتخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمٰن حفظہ اللہبتاریخ: ۵؍ رجب المرجب  ۱۴۴۷ھ / 26؍ دسمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی :قُلۡ اَمَرَ رَبِّىۡ بِالۡقِسۡطِ‌ وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ؕ كَمَا بَدَاَكُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ۔ (-7الاعراف:29)ترجمہ: کہہ دو میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور ہر نماز کے وقت اپنے منہ سیدھے کرو اور اس کے خالص فرمانبردار ہو کر اسے پکارو جس طرح تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اسی طرح دوبارہ پیدا ہو گے. ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:44 قسط اور عدل کا عالمگیر اصول5:16 انسانوں میں ارادہ اور اختیار کا اصول10:09 انسانی سماج میں عدل  کا اصول14:26 رائے دینے کا حق اورمشاورت و عدل کا باہمی تعلق19:18 صاحب الرائے جماعت اور عصر حاضر کا مشاورتی ڈھونگ23:23 شعوری بنیادوں پر رائے کا حق (اسوہ حسنہ کی روشنی میں)29:52 قسط اور عدل کے اصول پر جماعت صحابہؓ کی  تربیت35:14 دین کے دو اساسی شعبے (توحید اور عدل)40:16 عدل کا انفرادی و اجتماعی تقاضا45:15 شریعت اور عدل کا باہمی تعلق اور عدل کی پامالی کے سماجی اثراتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
ردّ نوآبادیاتی تناظر میں نظام فطرت پر استوار دینِ اسلام کا علمی بیانیہ اور اس کی اساس پر انسان دوست نظام کے قیام کی ناگزیریتخطبہ جمعۃ المبارکبتاریخ: 5؍ رجب المرجب 1447ھ / 26؍ دسمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنیہ: 1۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (3 – آلِ عمران: 190-191)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”بے شک آسمان اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آنے جانے میں البتہ عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ وہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے ہیں، (کہتے ہیں): اے ہمارے رب ! تُو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا، تُو سب عیبوں سے پاک ہے، سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا“۔ 2۔ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ (2 – البقرۃ: 284)ترجمہ: ”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور اگر تم اپنے دل کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے اللہ تم سے اس کا حساب لے گا پھر جس کو چاہے بخشے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔ دینِ اسلام کے مکمل علمی و عملی نظام کا فہم و ادراک، بقائے انسانیت کے لیے ضروری  ✔ انسانیت‘ حیوانیت کے بھنور میں، راہِ نجات کیا ہے؟✔️ ذات خداوندی کے ساتھ سچا تعلق؛ مقاصد و اہداف✔️ انسان میں اصل حیثیت روح کی ہے، نہ کہ محض جسم کی!✔️ انسانی روح کے تقاضوں کے تین مراکز؛ نفس، قلب، عقل؛ دو دائرے اور اثرات و نتائج ✔️ انسان کی وِجدانی حالت‘ حصولِ علم کی سب سے اعلیٰ قسم✔️ صحیح اور فاسد وِجدان کا دار ومدار اور اَثرات و نتائج✔️ خدا شناسی کا شعور و ادراک‘ ہر انسان کا فطری وِجدان ✔️ عقل مند انسان کے لیے قرآنی معیارات اور ان کا معرفتِ خداوندی کے لیے غور و تدبر ✔️ عقلی غور و فکر کے نتیجے میں حضرات انبیاء علیہم السلام کا اقترابات و ارتفاقات کے عملی نظام کا قیام ✔️ ریاست و سیاست اور نظام کی ضرورت و اہمیت اور ذمہ داریاں ✔️ دینی سسٹم کی اَساسیات ✔️ حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے حیوانی عقل کی بنیاد پر سوالات اور اس کا علاج ✔️ خدا شناسی کے متعلق عقلی شکوک و شبہات کا قرآنی مخاصمہ✔️ اسلام کے بارہ سو سالہ دورِ عروج میں ہر علمی و عملی شبہے کے ازالے کے لیے مکمل رہنمائی  ✔️ ہندوستان میں دورِ زوال میں اسلام کے متعلق علمی شکوک وشبہات کے ہتھکنڈے ✔️ شکوک وشبہات پر مبنی غلامی کا نیا علمی بیانیہ؛ پسِ پردہ محرکات ✔️ عیسائی مشنری کی طرف سے خدا کے وجود پر سوالات اور حضرت نانوتویؒ کا حقانیتِ اسلام کا عملی و عقلی بیانیہ ✔️  اس علمی بیانیے کی اساس پر حضرت نانوتویؒ کا ”حجۃ الاسلام“ کے لقب سے موسوم ہونا ✔️ نوآبادیاتی دور کے بیانیے کی ناکامی؛ برٹش شہنشاہیت کا تشدّد اور فتوے بازی کے ماحول کا حربہ نیز مناظروں و مذہبی مکالموں کی اساس پرعلمی تقاضوں سے رُوگردانی ✔️  یورپین سامراجی نظام کے زیرِ اثر نام نہاد اسلامی جماعتیں اور ان کے بیانیے ✔️ وجودِ باری تعالیٰ پر بحث و مباحثے قابلِ تحسین لیکن دین کے عملی نظام کے قیام کے حوالے سے مکالمہ کیوں نہیں؟✔️ عملی نظام سے کٹا ہوا علمی بیانیہ کمزور حیثیت رکھتا ہے ✔️ علمی مکالمہ اور دو انتہائیں ✔️ معروضی تقاضے؛ دین اسلام کا ٹھوس علمی بیانیہ اور عملی نظام کے قیام پر مکالمے و مباحثے کی ناگزیریتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
حکمتِ نظری و عملی کے دائروں میں ولیُ اللّٰہی اُسلوبِ فکر اورعصرِ حاضر کی حکمتِ سعیدیہ کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 27؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 19؍ دسمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنیآیتِ قرآنی:‌ادْعُ ‌إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔ (-16 النّحل: 125)ترجمہ: ”اپنے رب کے راستے کی طرف دانش مندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز 1:15 ادھورے اور ناقص نظام اور دینِ اسلام کے کامل و مکمل فکر و عمل کی دعوت3:24 حکمت کا بنیادی اصول؛ غلط افکار و نظریات اور اعمال کو روک کر صحیح سمت کی طرف گامزن کرنا9:10 حکمت کے دو دائرے؛ حکمتِ نظری و عملی اور انبیاءؑ کی بعثت11:08 ایمان کی تعریف؛ ہر علم و عمل میں اتباعِ رسول اللہ ﷺ اور اس پر پختہ یقین12:44 حکمت نظری و عملی کی تین قسمیں19:35 نبی اکرم ﷺ کی حکمت کے ان چھ دائروں کی درستگی کی دعوتِ حق اور درست فکر و عمل کا تعین20:10 مکہ میں مشرکین کے غلط الوہی تصورات اور مدینہ میں یہود ونصاریٰ کے فاسد ابہامات کا رد27:48 آپؐ کا حکمتِ ریاضیہ و طبیعیہ کے نکتۂ نظر سےغلط تصورات و خیالات کی تردید اور صحیح فکر و عمل کا تعین35:03 حکمتِ عملیہ کے تینوں دائروں میں نبی اکرمؐ کی رہنمائی46:15 خلفائے راشدینؓ کا اس حوالے سے اسوۂ حسنہ کا کامل اتباع اور حکمت، موعظتِ حسنہ و مجادلہ و حسنہ کی اساس پر مضبوط و مستحکم قومی و بین الاقوامی نظام کا قیام56:34 گذشتہ خطبہ جمعہ سے ربط و تعلق✔ پہلے دور میں فلسفہ، حکمتِ نظری و عملی کا چیلنج اور ولی اللہی حکمت کا اسلوب✔ دوسرے دور (1857ء) میں دہریت و غلامی کا چیلنج اور امداد اللہی و قاسمی ورشیدی حکمتِ عملی✔ تیسرے دور (1947ء) میں جدید ظالمانہ نظام کا چیلنج اور حکمتِ سعیدیہ کی اساس پر مجدد العصر کا فکرو عمل✔ آج کا معروضی تقاضا اور دعوتِ فکر و عملبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
دین اسلام کا تصور عدل و توازن اور امتِ وسط کی ذمہ داریخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 7؍ جمادی الاخریٰ  1447ھ / 28؍ نومبر 2025ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہنما قرآنی آیتوَجَاهِدُوْا فِى اللّـٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْـرَاهِيْـمَ ۚ هُوَ سَـمَّاكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِىْ هٰذَا لِيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُـوْنُـوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ ۚ فَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّـٰهِۖ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْـرُ (الحج:78) ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے، اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی، تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، اسی نے تمہارا نام پہلے سے مسلمان رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو، پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوط ہو کر پکڑو، وہی تمہارا مولٰی ہے، پھر کیا ہی اچھا مولٰی اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔ اسلام دین فطرت اور دیگر عنوانات پر قائم مذاہب کی حقیقت ✔ دین محمد ﷺ کی  حقیقی پہچان اور ملت ابراہیم ✔ الٰہی شریعت کی خصوصیت اور انسانی قوانین ✔ انسانیت کی ابدی اقدار ✔ قابل تغیر احکام اور دین اسلام کی متوازن شریعت ✔ فرد اور اجتماعیت میں توازن اور انتہا پسندانہ فلسفے ✔ دینی اسلام کے شعبوں (شریعت، طریقت اور سیاست) میں توازن ✔ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ سے توازن کی سنت ✔ اخلاق اور معیشت میں توازن کا دینی تصور ✔ ہر شے کے حق کی ادائیگی (حضرت ابو درداؓ اور حضرت سلمان فارسی ؓکا واقعہ) ✔ غلبہ دین کے لیے جدوجہد کا حق اور تنگی کی ممانعت ✔ اسوہ حسنہ او رایمان والی جماعت کی ذمہ داری ✔ دین کی بنیادی پہچان (توازن اور عدل)بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
مواطنِ حیاتِ انسانی اور مشائخِ رائے پور کا سلسلۂ ولایت؛ حکمتِ سعیدیہ کے تناظر میں مولانا محمد عباس شادؒ کا یقظانی کردارخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ : 13؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 05؍ دسمبر 2025ءبمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَـنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ‌ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ‏ (03– آل عمران: 185)ترجمہ: ’’ہر جی کو چکھنی ہے موت اور تم کو پورے بدلے ملیں گے قیامت کے دن  پھر جو کوئی دور کیا گیا دوزخ سے اور داخل کیا گیا جنت میں اس کا کام تو بن گیا اور نہیں زندگانی دنیا کی مگر پونجی دھوکے کی‘‘۔حدیثِ نبوی ﷺ :۱۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" يَعْنِي: الْمَوْتَ.ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4258]  ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ 1۔ موت اور انسانی زندگی کا فلسفہ✔️ انسانی زندگی کا خاتمہ ایک اٹل حقیقت✔️ موت کا وجودی مقام اور اگلے موطن تک رسائی✔️ انسان کے مواطن اور ان کے اثرات✔️ جسمانی و روحانی ارتقاء کے معیار✔️ دنیاوی زندگی کی حیثیت: "متاعِ غرور"✔️ مرنے کے بعد ہیئتِ نفسانی کے مطابق نتائج✔️ 2۔ قبر و حشر کے مراحل اور روحانی قانونِ جزا✔️ مسلمانوں اور منافقوں کے مراتبِ قبر و حشر✔️ نیک اعمال کا نعمتوں اور بد اعمالیوں کا سزا کی صورت میں جواب✔️ حدیث: محبت اور حشر کی نسبت✔️ قیامت میں جماعتوں کے اپنے امام کے ساتھ اٹھائے جانے کا قانون✔️ روحوں کی باہمی محبت و نفرت اور اس کے اثرات✔️3۔ انبیاء کی اجتماعیتیں، روحانی لشکر اور ولایت کا تسلسل✔️ ارواح کے متنوع لشکر✔️ قرآن میں انبیاء کی جماعتوں کا حوالہ اور شاہ صاحب کا منفرد استدلال✔️ اجتماعیتِ انبیاء کے غلبے کا وعدہ✔️اولیاء اللہ کے سلاسل کا جاری ارتقاء✔️ صحبت کے ذریعے ہدایت و ضلالت کا انتقال✔️ اجتماعی ماحول کا فرد کی دنیا و آخرت پر اثر✔️4۔ مشائخِ رائے پور کی روحانی روایت اور حضرت عباس شادؒ کا تعلق✔️حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی مشائخ سے محبت✔️اولیاء کی روحوں کا اپنے محبین کو کھینچ لینا✔️انسان کے اگلے مواطن کا اثر: بلوغت سے موت تک✔️ مولانا محمد عباس شادؒ کی خانقاہ سراجیہ کندیاں سے تربیت کا آغاز✔️ 5۔ مولانا محمد عباس شادؒ کی تعلیمی و تربیتی زندگی کا سفر✔️ابتدائی تربیت: جامعہ عربیہ اسلامیہ بورے والا✔️جامعہ اشاعت العلوم میں تعلیمی قیام✔️جامعہ رشیدیہ اور پھر جامعہ اشرفیہ سے سندِ فراغت✔️مشائخ اور مفتیانِ کرام کی صحبتیں✔️6۔ حضرت شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی صحبت اور مولانا شادؒ کی فکری تشکیل✔️حضرت شاہ سعید احمد کی توجہات اور عملی تربیت✔️شعبہ مطبوعات کی طرف رہنمائی✔️حکمتِ سعیدیہ کے فروغ کی ذمہ داری✔️مولانا شادؒ کا "یقظان بالطبع" ہونا✔️تجدیدی فکر کے عصری تقاضوں کی خدمت✔️7۔ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ میں 25 سالہ خدمات✔️ ابتدائی مطبوعات اور مکی دار الکتب کا دور✔️’’قرآنی شعور انقلاب اور مشائخِ رائے پور‘‘ کی طباعت✔️ادارہ رحیمیہ کے طباعتی و علمی منصوبوں کی سرپرستی✔️جدید ابلاغ کے دور میں مسلسل جدوجہد✔️حکمتِ سعیدیہ کے لیے سپاہیانہ کردار✔️8۔ زندگی کے مصائب، آزمائشیں اور روحانی استقامت✔️ دنیاوی مشکلات کا سامنا اور صبر و رضا کا مقام✔️ آخرت کی کامیابی کا اصول✔️ آزمائشوں کے بعد انعامات کا وعدہ✔️ رجوع الی اللہ ہر مصیبت کا شفا بخش نعم البدل✔️اجتماعیت سے فرد کی جدائی اور اس کے اثرات✔️ 9۔ سانحہ ارتحال اور اہلِ دل کی کیفیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
جمعہ کی اجتماعیت کے مقاصد اور انسانی معاہدات کی اساسی اہمیت، قرآنِ حکیم کے تصورِ تقویٰ کے تناظر میںخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 06؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 28؍ نومبر 2025ءبمقام: جامعہ عثمانیہ مکی مسجد، حسین کالونی، چشتیاں خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:يٰـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِيۡدًا يُّصۡلِحۡ لَـكُمۡ اَعۡمَالَـكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا (33– الأحزاب: 70,71)ترجمہ: ’’اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور کہو بات سیدھی، کہ سنوار دے تمہارے واسطے تمہارے کام اور بخش دے تم کو تمہارے گناہ اور جو کوئی کہنے پر چلا اللہ کے اور اس کے رسول کے اس نے پائی بڑی مراد‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:35 جمعہ کی اجتماعیت کے مقاصد6:05 جمعہ کی اجتماعیت کا قائم کرنا اور خطبہ دینا ریاست کے سربراہ کی ذمہ داری7:21 جمعة المبارک کا بنیادی ہدف؛ اجتماعی قوت کا اظہار9:50 جمعہ کے دن دو خطبوں کی مشروعیت کا راز11:49 جمعہ کے دن اردو خطبہ سے مقصود‘ دین کے احکامات کی تعلیم و تفہیم 12:56 جمعہ کی اجتماعیت اور معاہدات کی پاسداری15:11 جمعہ کے اجتماع سے دینی اجتماعیت اور مادی اجتماعیت کا بنیادی فرق سمجھنا ضروری21:46 مسلمانوں کی بے روح اجتماعیتیں اور جمعہ کا شعوری پیغام25:47 انسانی سماج کی پہلی اکائی؛ معاہدۂ نکاح  کے بنیادی اساسی امور29:14 خطبۂ نکاح کی پہلی آیت کا مقصد؛ تقویٰ کی اساس پر فریقین کی مساوی حیثیت کا تعین42:30 دوسری آیت کا ہدف؛ قولِ سدید کا عہد و قرار اور خاندان کا ادب و احترام 46:29 ان امور کا لازمی نتیجہ اعمال و افعال کی درستگی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے49:07 تیسری آیت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایمان و سلامتی اور ایفائے عہد کی پاسداری کا بیان51:20 ان اساسی امور کی شعبۂ زندگی کے ہر معاہدے اور اجتماعیت میں پاسداری ضروری58:53 قولِ سدید کی تشریح اور دینی اجتماعیت پر مبنی آزادی و امن اور عدل کے نظام کا قیام1:09:37 تین سو سال سے مادی مفادات کی اساس پر ظالمانہ نظام کا تسلط1:18:17 اجتماعیت کا قیام اور تبدیلی نظام کا شعوری پیغامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت میں ریاستی ذمہ داریاں سیرتُ النبی ﷺ کی روشنی میںخطاب:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 10؍ ربیع الاول 1447ھ / 4؍ ستمبر 2025ءبمقام: یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:04 کلماتِ تشکر اور جامعات کے علمی و سماجی کردار کی نشان دہی2:09 سوشل میڈیا  کو دجّال و فتنہ قرار دینے کے بجائے علمی طور پر غور وفکر کرنے کی ضرورت5:21 نئی ٹیکنالوجی کو فتنہ قرار دینے کی پُرانی رِیت ، نیز اس کے نسبتی شر کو پہچاننا اور فطری خیر کو استعمال میں لانا ضروری6:41 موضوع  کے تین دائروں کا اجمالی جائزہ7:46 آپ ﷺ کی سیرت کا پہلا بنیادی تقاضا؛ ظالمانہ ریاستی ڈھانچے کی درستگی9:48 رسولُ اللہﷺ کا مکی دور  میں ریاستی سربراہی کی حیثیت سے کردار: ’’رئیسُ مدینةٍ مِن المُدُن‘‘11:10 آپ ﷺ کا مدنی دور میں پورے حجاز کے سلطان”سلطان ناحیۃ العرب“  اور اقوامِ عالم کےلیے ’’ذوالقرنین‘‘ کی حیثیت سے کردار12:37 آپ ﷺ کی سیرت کا بنیادی تقاضا‘ ریاست سازی ہے اور اس کی تشکیل کے چار اُصول14:25 ریاستی تشکیل کا پہلا اُصول؛ قومی آزادی و خود مختاری اور اُسوۂ حسنہ ﷺ17:17 ریاستی تشکیل کا دوسرا اُصول؛ عدل و انصاف کا نظام19:03 ریاستی تشکیل کا تیسرا اُصول؛ امن و امان کا نظام21:24 ریاستی تشکیل کا چوتھا اُصول؛ معاشی خوش حالی کا نظام23:19 ان چار اصولوں کی روشنی میں عملی نظام کی تشکیل‘ ریاست کی بنیادی ذمہ داری24:25 قومی ریاستوں کے زمانے میں ہمیں سیرتِ نبی ﷺ سے کیا رہنمائی لینی ہے؟25:21 سیرتِ نبویہ ﷺ کی اساس پر ریاستی تشکیل کے لیے  نیشنل ازم لازمی و ضروری26:49 ہمارا لمحۂ فکریہ ہے کہ برعظیم پاک و ہند  کی ہزار سالہ اسلامی ریاست و سیاست سے بے خبر ہیں27:57 انگریز کےظالمانہ  نظام اور پورپین ڈھانچے کا تسلط  اور سیرت کا رہنما کردار31:14 انسانی حقوق کی آواز کے لیے سوشل میڈیا   کا استعمال اور ریاستی جبر33:08 سوشل میڈیا کی تین بنیادی اَساسیات اور ریاست کی ذمہ داریاں35:25 یٰاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡا (الآیہ) کا پسِ منظر اور سیرتِ رسولﷺ کے تناظُر میں قومی ریاست کی ذمہ داریاں36:45 سماجی وحدت کو برقرار رکھنا ‘ سوشل میڈیا کی بڑی بنیادی ذمہ داری37:20 پہلے ہمیں اپنا بیانیہ درست کرنا چاہیے38:36 ریاستی ذمہ داریوں کے ساتھ سوشل میڈیا نعمت سے کم نہیںبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
سُنّتُ اللّٰه اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں درپیش معاشرتی زوال سے نجات کا لائحۂ عملخُطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 29؍ جمادی الاولیٰ 1447ھ / 21؍ نومبر 2025ءبمقام: جامعہ خدیجۃُ الکبریٰ، بورے والا خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا (48– الفتح: 23)ترجمہ: ’’رسم پڑی ہوئی اللہ کی جو چلی آتی ہے پہلے سے اور تو ہرگز نہ دیکھے گا اللہ کی رسم کو بدلتے‘‘۔حدیثِ نبوی ﷺ :”خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ“۔ (صحیح بُخاری، حدیث: 5027)ترجمہ: ”تُم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے“۔  ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:22 دورِ زوال میں قرآنِ حکیم کا پیغام، عملی نظام اور مسلمان جماعت کا فریضہ4:09 ’’حَبلُ اللہ المَمدود‘‘ سے سچا ربط و تعلق ہی ہماری نجات کا واحد راستہ ہے7:50 خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں سنت اللہ کے مطابق انسانی معاشروں کی ترقی کے نبوی منہج کی تفصیلات20:13 سنت اللہ کے مطابق انبیاءؑ کا انقلاب و تبدیلی کا منہج اور اس کا تاریخی تسلسل29:37 سنت اللہ کے عملی منہج کی نبوی تعلیمات اور زوال کے خاتمے کا درست طریقہ کار کے چار اساسی امور47:27 قرآنی منہج کے مطابق تعلیم و تربیت کا شعوری پیغامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
تقریبِ رونمائی کتاب: دار العلوم دیوبند◼️ بنیادی اُصولِ تعلیم و انتظام اور مسلک◼️ معتدل مکتبِ فکر اور تاریخی تسلسل◼️ جامعیت پر مبنی مسلک علمائے دیوبنداز حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبندترتیب و تقدیم، تحقیق و حواشی: حضرت مولانا شاہ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوریبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربتاریخ: 24؍ جمادی الأولیٰ 1447ھ / 16؍ نومبر 2025ءاظہارِ خیال:  حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن مدظلهبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
قومی مستقبل کی تعمیر میں اُسوۂ حسنہ کی ترجمان ولی اللّٰہی فکر کے نمائندہ ادارے کے طور پر ادارہ رحیمیہ کی اہمیتخطابحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعید الرحمٰن حفظه اللهبرموقع: تقریبات بسلسلۂ پندرہ سو سالہ ولادتِ باسعادت ﷺ اور پچیس سالہ قیامِ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ وتقریبِ رونمائی "تقریر الخیر الکثیر"بتاریخ: 20؍ ربیع الاول 1447ھ / 14؍ ستمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
جبری بالادستی اور سماجی فساد کے فرعونی و قارونی نظاموں کے خلاف قرآنی تصوُّرِ تقویٰ پر شُعوری تربیّت کی ضرورت خطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ: 22؍جمادی الاولیٰ 1447ھ /14؍نومبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیت”تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔“        (القصص:83)ترجمہ: یہ آخرت کا گھر ہم انہیں کو دیتے ہیں جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور نیک انجام تو پرہیز گاروں ہی کا ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇0:00 آغاز0:49  انسانی زندگی کے دو  مربوط مراحل اور نتائج کا نظام7:47 اعمال کے مکمل نتائج  کا نظام اور عقلی تقاضا12:18 مغرب کا تصورِ انسان اور حقوق کا نظام19:53 وسائل پر تصرف اور زمین پر فساد مچانے والی سامراجی قوتیں25:39 متقی کہلانے کے حق دار لوگ27:38 انسانی وحدت کے قیام میں انبیاء کا اجتماعی کردار اور سماجی ردعمل کی وجوہات32:19 سماج میں فساد اور قارونی کردار کے خلاف انبیاء کی جدوجہد39:40 تقویٰ کی حقیقت اور متقین کا اجتماعی و سماجی کردار قرآنی تعلیمات کی روشنی میںبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
تقریبِ رونمائی کتاب: دار العلوم دیوبند◼️ بنیادی اُصولِ تعلیم و انتظام اور مسلک◼️ معتدل مکتبِ فکر اور تاریخی تسلسل◼️ جامعیت پر مبنی مسلک علمائے دیوبنداز حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبندترتیب و تقدیم، تحقیق و حواشی: حضرت مولانا شاہ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوریبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربتاریخ: 24؍ جمادی الأولیٰ 1447ھ / 16؍ نومبر 2025ءاظہارِ خیال:  حضرت مولانا شاہ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلهبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
سامراج کے آئین شکن ظالمانہ تسلط کا تسلسل اور برعظیم کے علماء حق کی اجتماعی جدوجُہد عصری تناظر میںخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 22؍ جمادی الاولیٰ 1447ھ / 14؍ نومبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:”وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا-اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ۔ وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا-تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ-اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ-وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ“۔ (16– النحل: 91,92)ترجمہ :”اور پورا کرو عہد اللہ کا جب آپس میں عہد کرو اور نہ توڑو قسموں کو پکا کرنے کے بعد، اور تم نے کیا ہے اللہ کو اپنا ضامن، اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ اور مت رہو جیسے وہ عورت کہ توڑا اس نے اپنا سوت کاتا ہوا محنت کے بعد ٹکڑے ٹکڑےکہ ٹھہراؤ اپنی قسموں کو دخل دینے کا بہانہ ایک دوسرے میں، اس واسطے کہ ایک فرقہ ہو چڑھا ہوا دوسرے سے، یہ تو اللہ پرکھتا ہے تم کو اس سے اور آئندہ کھول دے گا اللہ تم کو قیامت کے دن جس بات میں تم جھگڑ رہے تھے“۔  ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔ شرائعِ الہیہ میں معاہدات کی اساسیات اور ان کی ناگزیریت✔ معاہدات؛ فطرتِ انسانی کی بنیادی خصوصیت ✔ شریعتِ الہی میں معاہدات کی پہلی اساس؛ فریقین کی آزاد مرضی سے معاہدہ  ہو ✔ دوسری اساس؛ عدل اور با اعتماد ذات؛ ذاتِ باری تعالی کی بنیاد پر معاہدہ ہو✔ تمام ابنیاؑ کے ہاں معاہدات میں ذاتِ باری تعالی کے نام پر حلف اٹھانا ضروری✔ تمام انسانوں کے ہاں اللہ تعالیٰ کا شعوری یا غیر شعوری تعلق اور تقدس پایا جاتا ہے ✔ تیسری اساس؛ معاہدہ کرنے کے بعد اس کی پاسداری اورتمام تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ✔ انبیاءؑ کا معروضی حالات کا جائزہ لیکر معاہدات کی قرار واقعی حیثیت کا تعین✔ پہلی مثال؛ نبی اکرمؐ نے معاہدۂ نکاح کے تین غیر فطری طریقوں کو منسوخ کرکے صحیح طریقے کو برقرار رکھا✔ دوسری مثال؛ مالی لین دین میں  بیع اور سود کا فرق واضح کرکے سود کی حرمت✔ دینِ اسلام میں قانون سازی کی بنیاد‘ معاہدات کی اصل روح کا تحفظ ہے✔ انسانی معاہدات کی اساس پر دینِ اسلام کا قومی  و بین الاقوامی نظام✔ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق معاہدات و معاملات کا دینی فکر و عمل✔ معاہدات انسانی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں✔ سرمایہ دارنہ نظام میں انسان دشمن اور مفادات پر مبنی معاہدات کی سیاہ تاریخ✔ معاہدہ شکنی و آئین شکنی کا نام‘ سرمایہ داری نظام✔ سرمایہ دارانہ نظام میں معاہدات شکنی کے ظالمانہ تصورات✔ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں معاہدات پورا کی اساسیات اور انہیں پورا کرنے کا حکم✔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برٹش شہنشاہیت کی معاہدات شکنی کی سیاہ تاریخ✔ دین اسلام کی تعلیمات اور اسلامی ادوار میں معاہدات کی پاسداری کی روشنی مثالیں✔ سماجی معاہدات کی حفاظت کے لیے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی سیاسی تحریک اور ’’فکُّ کلِ نظامٍ‘‘ کا درست مفہوم✔ معاہدہ شکن طاقتوں (ایسٹ انڈیا کمپنی اور برٹش شنہشاہیت) کے خلاف ولی اللهی تحریک کی جدوجہد و کوشش✔ جمعیت علمائے ہند کا سیاسی شعور؛ سرمایه شکن طاقتوں کے خلاف آزادی و عدل و امن کی جمہوری جدوجہد✔ 1920ء سے آج تک ولی اللہی تحریک کا ایک ہی مطالبہ؛ آئینی فریم کی اساس پر آزاد مقننہ و عدلیہ و انتظامیہ کا قیام✔ 1927ء میں قانونی نظام کی اہمیت،آئینی اصلاحات اور جمہوریت پر مبنی حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا جمعیت علمائے ہند کاخطبۂ صدرات✔ 1927ء سے لیکر آج تک معاہدات توڑنے اور آئین شکنی کے اوچھے ہتھکنڈے✔ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں معاہدات شکنی کی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ اور شعوری دعوتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
اقامتِ دین بطور مقصدِ بعثتِ انبیاء: مذہب کے قنوطی و اقتداری رجحانات کا مطالعہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:15؍جمادی الاولیٰ  1447ھ /7؍نومبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیتشَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِؕ-كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِؕ-اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ۔ (الشوریٰ:13)ترجمہ: تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا نوح کو حکم دیا تھا اور اسی راستہ کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اور اسی کا ہم نے ابراھیم اور موسی اور عیسی کو حکم دیا تھا کہ اسی دین پر قائم رہو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف آپ مشرکوں کو بلاتے ہیں ، وہ ان پر گراں گزرتی ہے۔ الله جسے چاہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے راہ دکھاتا ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇0:00 آغاز0:55 اللہ کا سب سے بہترین شاہکار؛انسان5:50 انبیاء کا سماجی کردار اور دین کا اجتماعی تصور11:08 انبیاء کا ہدف اور مشن اور بالادست طبقہ  کا ردعمل17:07 اقامت دین ؛توحید کی اشاعت اورطبقاتیت کا خاتمہ24:01 انبیاء کے مد مقابل  طبقات کا تجزیہ31:13 دینی وحدت اور فرقہ واریت35:08 قنوطی مذہب اور سیاسی مذہب41:06 دینی اصولوں پر سیاست کا مفہوم44:40 اقامۃ دین اور تفرقہ فی الدین میں فرقبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
سماجی معاہدات کی پاسداری کے تناظُر میں رِجالُ الله کے کردار کی اہمیت اورتحریکِ بالا کوٹ کی جدوجہد کا خصوصی جائزہخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 15؍ جمادی الاولیٰ 1447ھ / 7؍ نومبر 2025ءبمقام: جامع مسجد قبا، مانسہرہخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:1۔ ”مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا“۔ (33– الأحزاب: 23)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ):”ا یمان والوں میں سے ایسے آدمی بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اسے سچ کر دکھایا، پھر ان میں سے بعض تو اپنا کام پورا کر چکے اور بعض منتظر ہیں اور عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی“۔2۔ ”وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ“۔ (2- البقرہ: 154)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ):”اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے“۔  ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز1:35 حسنة فی الدنیا والآخرة  کا دینی تصور4:24 دنیا کی کامیابی کی بنیاد‘ سماجی معاہدات کی پاسداری8:36 مہذّب معاشروں کی ترقی اور کامیابی کا بنیادی راز10:58 مسلمان اور کافر میں بنیادی فرق17:11 بے نیاز ذات اللہ تعالی کے ساتھ معاہدہ کیوں نہیں ہوسکتا؟21:34 ذاتِ باری تعالی سے معاہدات کی تفصیل؛ اثرات ونتائج31:20 معاہدات میں رضائے الہی کا حصول اور تعلق مع اللہ  پیش نظر رکھنا ضروری32:45 اسلامی و غیر اسلامی ریاست میں فرق33:59 اللہ کے نام پر کیے گئے معاہدات کو توڑنے کی ممانعت37:06خطبے کی مرکزی آیت میں اولو العزم جماعتِ صحابہؓ کی معاہدات کی پاسداری کا ذکر47:46 معاہدات پورا کرنے والے رجال اللہ کی روشن تاریخ53:27 دینِ اسلام کی انسانی وقومی ریاست کی بنیاد اور روشن کردار54:31 سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کا بطور رجال اللہ کردار نیز دینِ اسلام میں جہاد اور فتوحات کا انسانی تصور1:07:16 دین کے نام پر قربان ہونے والے قومی ہیرو اور شہداء اور آج کا المیہ1:08:08 حضرت شاہ عبدالرحیم ولایتی شہیدؒ کا تحریکِ بالاکوٹ کے لیے کردار1:12:05 سید احمد شہیدؒ کی تحریک‘ قومی آزادی کی تحریک تھی نیز اس بارے سامراج نواز پرتشدد انحرافی رویوں کا شعوری جائزہبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
loading
Comments