Discover
خطبات
خطبات
Author: Rahimia Institute of Quranic Sciences
Subscribed: 28Played: 1,539Subscribe
Share
© 2021 Rahimia Institute of Quranic Sciences
Description
پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان
Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan
w: www.rahimia.org
FB: @rahimiainstitute
Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan
w: www.rahimia.org
FB: @rahimiainstitute
504 Episodes
Reverse
ملت ابراہیمی کی اساس پر دین محمدی کا جامع جادہ اعتدال، ماہ رمضان المبارک کے اعمال کے تناظر میںخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 9؍رمضان المبارک 1447ھ / 27؍ فروری 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ (2 البقرہ: 183)ترجمہ: ”اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے پہلے لوگوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ2۔ قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ (6 – الأنعام: 161)ترجمہ: ”کہہ دو! میرے رب نے مجھے ایک سیدھا راستہ بتلا دیا ہے، ایک صحیح دین ابراہیم کی ملت جو ایک ہی طرف کا تھا، اور مشرکوں میں سے نہیں تھا“۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ رمضان المبارک کی ضرورت اہمیت ✔️ روزہ ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے بڑا تریاق✔️ روزہ انسانیت کا بنیادی وصف اور فطری ضرورت ✔️ انسانوں کی ترقی و بقاءکے لیے ملتِ جامعہ کا تعین ✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں ملت اور دین کی وضاحت✔️ ملتِ جامعہ (قصویٰ)اور دین میں بڑا فرق ✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی تعلیمات کی روشنی میں ملت کی حقیقت ✔️ ملتِ قصویٰ کے تحت ارتفاقات و اقترابات کے لیے تین ملتوں کی تشکیل✔️ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی جامعیت اور دیگر دو ملتوں میں انحرافات✔️ حضرت ابراہیمؑ کا ملتِ نجوم و مجوس کی اساس پر تشکیل پانے والے دین (نظام) کی خرابیوں کی قرار واقعی حیثیت سے آگاہ کرنا✔️ ملتِ ابراہیمیؑ کے تحت تین ادیان تشکیل پائے✔️ دینِ موسویؑ و عیسوی میں ملتِ نجامیین و طبیعیین کی خصوصیات کا اختلاط✔️ دینِ اسرائیلی میں نسلی حکومت کے خود ساختہ تصورات؛ یہودیت کا فروغ اور تورات میں تحریفات✔️ وحی الہی اور فہمِ وحی کی استعداد و صلاحیت کے فرق کے تناظر میں نبی و مجدد کا فرق سمجھنا ضروری✔️ یہود و نصاریٰ کی خواہشات کی بنیاد پر اصولِ حنیفیت میں معنوی تحریف اور اصلِ ملت کی اتباع کا حکم✔️ جامعیت پر مبنی ملتِ ابراہیمی کی اساس پر دینِ محمدیؐ کا معیاری جادۂ اعتدال✔️ ارتفاقات و اقترابات کے تقاضوں کے تناظر میں دینِ محمدیؐ کے بنیادی اصول✔️ مقاصدِ نبوت میں سے ایک اہم مقصد؛ انسانیت میں صفتِ احسان پیدا کرنا✔️ حنیفی اصولوں کی روشنی میں طبعی حجابات توڑنے میں روزے کا بنیادی کردار✔️ نصاریٰ کی خواہش پرستی کی بنیاد پر روزوں میں تغیرات و تبدلات✔️ نبی اکرمؐ کا روزوں میں تحریفات کے خاتمے کا سدِ باب✔️ رمضان کی رسم؛ عبادات و اجتماعیت کا باہمی التزام✔️ قیامِ رمضان (تراویح کی اجتماعیت ) سے تحریفِ قرآن کا دروازہ بند✔️ دین محمدی کی حفاظت کی اساس پر باجماعت تراویح کا اجرا‘ حضرت عمرؓ کا عظیم کارنامہ✔️ حضرت عمرؓ کے لیے حضرت علیؓ کی دعا✔️ دینی رسومات کی اجتماعیت کاقیام‘ دین دشمن عناصر پر سیاسی رعب پیدا کرنے کا ذریعہ✔️ حکمت کے تناظر میں عوام میں اچھی رسومات پیداکرنا‘ دین کی نصر کا باعث✔️ تراویح محسنین اور رہنماؤں کے لیے اکسیر اعظم ✔️ دینِ قیّم میں رسمِ صالح جاری کرنا‘ حجابات توڑنے کا باعث✔️ رمضان المبارک کے چار اعمال کی پابندی کرنا ضروریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا✔️
تصفیۂ روح اور بصیرتِ فرقان کا پیغامِ رمضان اور اس کی نمائندہ ولی اللہی تحریکخطبۂ جمعۃ المبارک بتاریخ : 2؍رمضان المبارک 1447ھ / 20؍ فروری 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی:شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ (2 – البقرۃ : 185) ترجمہ : ”مہینہ رمضان کا ہے، جس میں نازل ہوا قرآن، ہدایت ہے واسطے لوگوں کے، اور دلیلیں روشن راہ پانے کی، اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی، سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اس کے‘‘۔احادیثِ نبوی ﷺ :1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1901) ترجمہ : رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے رکھے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“۔2۔ ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". (صحیح بخاری، حدیث: 37) ترجمہ : رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے عبادت کرے، اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ رمضان المبارک؛ سید الشہور اور عظمت و برکات والا مہینہ✔️ اس ماہِ مبارک میں ذاتِ باری تعالیٰ کی انسانیت کی طرف خاص توجہ✔️ خالص انسانیت کے قلوب خود بخود اللہ کی طرف کھچتے ہیں✔️ زنگ آلود قلوب اور ارواح کی صفائی و ستھرائی کے لیے انبیاءؑ کی بعثت✔️ روح کی پاکیزگی اور الائشوں کی صفائی کے لیے پانچ وقت کی نماز کی فرضیت✔️ روح کی ناپاکی اور زنگ چڑھنے والے فاسد افکار و اعمال✔️ روزے بھی روح کی گندگیوں کے لیے اکسیرِ اعظم✔️ ہدایتِ انسانیت کے لیے واضح نشانیوں اور حق و باطل میں فرق کرنے والی مقدس کتاب کا نزول✔️ فرقان کا معنی و مفہوم✔️ ہر مادی و روحانی عمل کی روح پر خاص کیفیت و حالت طاری ہوتی ہے✔️ امام انسانی کے واسطے سے کلماتِ طیبہ اور اعمالِ صالحہ تدلی اعظم تک پہنچتے ہیں✔️انسان میں بصیرت و شعور کا تعلق اسی نورانیت سے ہے البتہ استعداد کے درجات مختلف ہیں✔️ نبی اکرمﷺ کل انسانیت کے مسائل حل کرنے کی استعداد اور بصیرت کے حامل✔️ آپؐ کی صحبت سے جماعتِ صحابہ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوا✔️ قومی و بین الاقوامی رہنماء کی بصیرت و شعور کا معیار اور اولو العزم صحابہ کرامؓ✔️ بصیرت و فرقان کی صلاحیت تمام ارتفاقات و اخلاق کے دائروں میں ہونا چاہیے✔️ کتابِ الہی سے حالت و کیفیت پیدا کرنے کا صحیح طریقۂ کار اور آج کا المیہ✔️ اسی حالت و کیفیت کے ساتھ دینِ اسلام کا بارہ سو سالہ حکومتی نظام کا تسلسل اور انگریز کا پروپیگنڈا✔️ دینِ اسلام کی حکومت کا قیام بنیادی ہدف نیز شریعت و طریقت سے سیاست سے الگ کرنے کے مذہبی ہتھکنڈے✔️ شعور و بصیرت پر مبنی ولی اللہی تحریک اور اس جماعت کی خصو صیات✔️ مولانا سندھیؒ کی احسانی کیفیت و حالت پر مبنی شعوری کلماتِ طیبہ اور اعمالِ صالحہ کا ثمرہ‘ ’’شاہ ولی اللہؒ اور ان کی سیاسی تحریک‘‘✔️ رمضان المبارک میں اذکار واعمال سے عقل و شعور اور فہم و بصیرت کی بلندی‘ آج کا پیغامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
تقریب رونمائی ”ملفوظات رحیمیہ“ مع سوانحی حالات مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کتاب ”ملفوظات رحیمیہ“ کا تعارف مقرر: محقق العصر فکر ولی اللہی حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری تاریخ: 8؍ فروری 2026ء / 19؍ شعبان المعظم 1447ھ بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ٹرسٹ لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ ہندوستان پر انگریز سامراج کے ظالمانہ تسلط کا پر آشوب دور ✔️ حضرت شا ہ عبدالرحیم رائے پوریؒ تین اہم مشائخ کے جامع فکر و عمل کے جانشین✔️ ولایتِ نبوت کی حقیقت، تین بنیادی وصف و کمالات اور ان کے اثرات و نتائج ✔️ شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیات اور ان کے تربیت یافتہ حضرات✔️ دار العلوم دیوبند کے نظم و نسق کی درستگی میں شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا کردار✔️ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا دارالعلوم کی بقاء کے لیے وجیہانہ کردار✔️ قطبِ عالم حضرت رائے پوریؒ کا مدرسہ مظاہر العلوم کے لیے بھی حکیمانہ کردار✔️ ہندوستان بھر میں مکاتیبِ قرآنیہ کا قیام ✔️ تحریکِ ریشمی رومال کے حوالے سےحضرت رائے پوری کی بصیرت پر مبنی سیاسی رائے✔️ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا بیعتِ طریقت اور مسنون اذکار متعین کرنے میں نمایاں تجدیدی کام✔️ حضرت رائے پوریؒ کے جامع ملفوظات بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
رمضان المبارک: روحانی ارتقاء، تحفظِ حقوق اور شیطانی قوتوں کے خلاف تربیتی نظامخطبۃ جمعۃ المبارکبتاریخ: 24؍ شعبان المعظم 1447ھ / 13؍ فروری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی: 1۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ (2 البقرہ: 183)ترجمہ: ”اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے پہلے لوگوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ2۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔ (5 – المائدۃ: 90) ترجمہ: ”اے ایمان والو شراب اور جو ا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 5927)ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ: ”(کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے سوا روزہ کے کہ یہ میرا ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا“🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ اتّباعِ سنت میں رمضان المبارک کی تیاری کا پختہ عزم و ارادہ کرنا ضروری✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی تشریح؛ روزوں کی فرضیت کا معنی و مفہوم ✔️ کائنات کی حاکمیتِ مطلقہ اور منشائے خداوندی؛ حفظ جان و مال اور عزت✔️ تمام شرعی قوانین اور عبادات کا مقصد ان تین حقوق کی حفاظت✔️ کائنات کی ہر مخلوق کے نمائندہ ڈاٹس اور تاثیرات انسان میں کارفرماں✔️ انسان کی صحت و ترقی اور حقوقِ انسانیت کی حفاظت کے قوانین کا نفاذ✔️ ’’كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الۡقِصَاصُ فِى الۡقَتۡلٰى‘‘ میں جان کی حفاظت اور ’’كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ‘‘ میں انسانی روح کی ترقی کے قانون کی فرضیت✔️ انسانی روح کے تمام دائروں کی درستگی کا راستہ روزہ ہے نیز صوم کی لغوی و شرعی توضیح✔️ ’’لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ‘‘ میں روزے کے مقاصد و اہداف کا تعین؛ روح کا شدتِ خواہشات سے بچنا ✔️ روح کی پاکیزگی کے لیے رمضان المبارک کا روزہ ضروری✔️ اصلاحِ نفس کے لیے ایامِ بیض میں روزے رکھنے کی حکمت✔️ رمضان المبارک کا مہینہ‘ تعلق مع اللہ کا ذریعہ اور نیکیوں کا موسمِ بہار ✔️ ”كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ“ میں امام انسانیت سے روزوں کی فرضیت کا ذکر✔️ نصاریٰ کی حکمِ الہی کی خلاف ورزی کا ارتکاب؛ رمضان المبارک کے تیس روزوں میں تغیر و تبدل✔️ تیس روزوں میں تحریفات اور اضافہ کرنے کی وجوہات ✔️ روزہ صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے ہے✔️ روزے دار کے قلب پر حالتِ الہیہ پیدا ہوتی ہے✔️ نورانی اعمال و کلماتِ طیبہ کے تسلسل سے خاص ملکہ و مہارت اور بصیرت پیدا ہوتی ہے✔️ متقی انسان کو یہ بصیرت حاصل اور غلبۂ دین کے لیے کردار✔️ استقبالِ رمضان المبارک کے لازمی امور اور بنیادی ہدایات✔️ ہندو ممبر سندھ اسمبلی کی شراب پر پابندی کی قرارداد اور سندھ اسمبلی کی مخالفت ✔️ شراب تمام مذاہب اور عقل مندوں کے ہاں ناجائز ✔️ رمضان کا غفلت پر مبنی استقبال اور حرام کو حلال قرار دینا‘ غضبِ الہی کو دعوت✔️ رمضان میں شیاطین کو زنجیر پہنانے کا درست مفہوم✔️ رمضان میں انسان نما شیطانوں کا راج✔️ رمضان المبارک‘ مواسات اور ہمدردی کا مہینہ✔️ رمضان المبارک میں کرنے کے چار کام بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
صحیح ترین احادیثِ رسول اللہ ﷺ پر مشتمل امام بخاریؒ کی مایۂ ناز تصنیف ’’صحیح بخاری‘‘ کی تقریبِ تکمیل کے موقع پردرسِ صحیح بخاری شریف مدرس: شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 14؍ رجب المرجب 1447ھ / 4؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔👇 0:00 آغاز درس1:30 بخاری شریف میں نظامِ نبوت کے تناظر میں انسانی اخلاق و اقدار، عمل میں لانے کی اتھارٹیز اور عملی نظام کے امور کی وضاحت؛ دینِ اسلام کا جامع تعارف13:11 وحی الہی سے کتاب کا آغاز اور دینِ اسلام کی فلسفہ و حکمت؛ توحید پر اختتام16:33 انسانی معاشرے میں توحید کے اثرات و نتائج؛ عدل و انصاف کا قیام17:42 توحید کی بنیادی قدر‘ عدل و انصاف پر مشتمل بخاری شریف کا آخری باب18:13 محشر میں وزنِ اعمال کی اساس و بنیاد 21:06 انسانی افعال، اعمال و اقوال کی پیمائش اور وزن کا معیار25:57 آیت کے لفظ ”القسط“ کی تشریح27:54 ”المقسط“ اور ”القاسط“ کے معنی سے ظلم و عدل کا فرق30:17 آخری حدیث کے اسنادی پہلو نیز سلسلہ سند کی ضرورت و اہمیت 33:52 برعظیم پاک و ہند میں بخاری شریف کی سند میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ بنیادی کڑی35:06 شیخ الحدیث حضرت اقدس مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری کا سلسلۂ اسنادِ صحیح بخاری 38:25 فہمِ حدیث کی بنیاد اور معروض کے مطابق ولی اللہی مشائخ واکابرین کے اطلاقی پہلو 43:15 آخری حدیث کی تشریح؛ دو کلموں کی تین خصوصیات44:55 فیوض الحرمین کی روشنی میں ان دو کلمات کی تحقیقی بحث46:43 رقائق کی تعریف، اقسام اور اطلاقی پہلو51:27 رقیقہ ظلمانی ونورانی کے تناظر میں غزہ اور وینزویلا میں ظلم و زیادتی کا جائزہ 55:50 دونوں کلمات کا تعلق رقائقِ نورانی نیز ان کی جامع تشریح1:07:01 پیغام فکر و عمل https://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/منجانب رحیمیہ میڈیا
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ریاستی ذمہ داری اور عہد نبوی کی صحت بخش جسمانی سرگرمیوں کے تناظر میں سرمایہ پرست مافیاز کے ثقافتی منکرات کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکبتاریخ: 17؍ شعبان المعظّم 1447ھ / 6؍ فروری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی:1۔ الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ۔ [22 - الحج: 41] ترجمہ: ”وہ لوگ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے“۔2۔ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا۔ [17 - الإسراء: 64]ترجمہ: ”ان میں سے جسے تو اپنی آواز سنا کر بہکا سکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے بھی چڑھا دے اور ان کے مال اور اولاد میں بھی شریک ہو جا اور ان سے وعدے کر اور شیطان کے وعدے بھی محض فریب ہی تو ہیں“۔ احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ۔ (الجامع الصّحیح للبُخاري، حدیث: 59)ترجمہ: ”جب (حکومت کے کاروبار) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر“۔2۔ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ۔ (الجامع الصّحیح للبُخاري، حدیث: 420)ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں کی جنھیں (جہاد کے لیے) تیار کیا گیا تھا، مقامِ حفیاء سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد "ثنیۃ الوداع" تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ "ثنیۃ الوداع" سے "مسجد بنی زریق" تک کرائی۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز خطاب✔️ انسانیت اللہ کو بہت محبوب اور الہی محبت کا تقاضا✔️ انسانیت کی کامیابی؛ علمی ترقی اور عملی مہارت کا نظام✔️ حضورﷺ کی تربیت یافتہ جماعتِ صحابہؓ‘ صحیح علم اور درست عمل کا حسین امتزاج✔️ اس حوالے سے خلفائے راشدینؓ کی امتیازی حیثیت نیز جماعتِ صحابہؓ‘ عروة الوثقیٰ (مضبوط کڑا)✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا مصداق‘ اصحابِ محمدﷺ، خلفائے راشدین کے ’’تمکین فی الارض‘‘ کے لیے چار اہم کام✔️ (1) تمکین فی الارض کا پہلا تقاضا؛ انسانیت کو اللہ کے ساتھ جوڑنے کے لیے نماز کا قیام✔️ (2) حالتِ الٰہیہ کے تقاضے سے اللہ کے کنبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال خرچ کرنا✔️ نماز اور زکوة کا چولی دامن کا تعلق✔️ (3) انسانی بھلائی کے معروفات (متفقہ امور) کا حکم اور (4) منکرات (انسانیت کے وجود کے لیے اجنبی کاموں) سے روکنا✔️ مُنکر کی مزید تشریح؛ قومیت کے غلط بیانیے اور فرسودہ تصورات کا شعوری جائزہ✔️ نبی اکرمؐ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں امر بالمعروف کی عملی شکلیں ✔️ ’’نیروز‘‘ اور ’’مہرجان‘‘ محض کھیل کود کے دن تھے✔️ نبی اکرمؐ نے انسانیت کی بھلائی اور یادِ الہی کے لیے دو دن مقرر فرمائے✔️ انسانی سوسائٹی کے مفید کھیل کود اور سرگرمیاں✔️ پہلا واقعہ: حضورؐ کی نگرانی میں ’’حفیاء‘‘ سے ”ثنیۃ الوداع“ تک گھوڑوں کی ڈور کا مقابلہ✔️ دوسرا واقعہ: حبشہ کے قبیلے بنی ارفدہ کا مسجد میں نیزوں کا کھیل✔️ تیسرا واقعہ: صحابہ کرامؓ کا تیز اندازی کا مقابلہ اور نبی اکرمؐ کی حوصلہ افزائی✔️ مفید سرگرمیاں اور کھیلوں کا شمار معروفات میں اور انہیں رواج دینے کا حکم ✔️ انسانوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ کھیلوں کا تعلق مُنکرات اور انہیں روکنے کا حکم✔️ شیاطین کا منکرات کی بنیاد پر کھیلوں کو پرموٹ (رائج) کرنا✔️ خطبے کی دوسری مرکزی آیت کی توضیح و تشریح✔️ ’’وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ‘‘: جہالت، انسانیت دشمنی اور ہر قسم کی منکرات کی آواز مراد✔️ ’’وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ‘‘: شیطانی خیالات اور توہمات کے گھوڑے اور پیادے✔️ ’’وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ‘‘ مال و اولاد میں شیطان کے شریک ہونے کا معنی✔️ ’’وَعِدْهُمْ ۚوَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا‘‘ شیطان کی دھوکہ بازی اور وعدہ خلافی✔️ اللہ کے بندوں پر شیطان کا تسلط قائم نہیں ہو سکتا!✔️ شیاطن الانس کی کارستانیاں نیز معاشرے کی صحت بخش اور مفید سرگرمیاں✔️ مسلم ریاست میں مُنکرات کے فروغ کے دن بدن بڑھتے دائرے✔️ بسنت کا تہوار؛ رہنما و مرشد کے ساتھ تعلیم و تربیت کی اجتماعیت کا عمل✔️ نااہل حکمرانوں کے تسلط سے قومی نظام پر قیامت برپا! ✔️ اسلام، انسانیت اور غریب کا مزاق؟✔️ اشاعتِ منکرات کی وجہ سے اللہ سے معافی مانگنا اور توبہ کرنا ضروری!https://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/
استکباری تسلط کے مقابلے میں عزتِ نفس اور اجتماعی شعور کے داعی نظامِ توحيد کی قرآنی فکرخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:10؍شعبان المعظم 1447ھ /30؍جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما آیاتِ قرآنی:اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ۔لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ۔(النحل: 22-23)ترجمہ: تمہارا معبود اکیلا معبود ہے پھر جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل نہیں مانتے اور وہ تکبر کرنے والے ہیں۔ ضرور اللہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں بے شک وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔ انسانوں کی عزت اور فضیلت کی اساس؛ اللہ کی بالادستی ✔ (استکبارکی بدخلقی) انسانی اقداراوراعمال کے نتائج سے انکار کا رویہ ✔ مستکبرین کی شیطانی جماعت اور معاشرتی فساد میں اس کا کردار ✔ اللہ کی کبریائی اور عظمت کی سماجی حقیقت اور استکبار کا مرض ✔ وسائل کی جغرافیائی تقسیم اور ان سے استفادہ کے لیے باہمی تعاون کی اساس پر عمرانی معاہدہ ✔ دنیا میں افراتفری کے ذمہ دار مستکبرین اور ان کے مقابلے کے لیے واضح نصب العین کی ضرورت ✔ مستکبرین کے خلاف انبیاء کی جدوجہد اورآج کے مسلمانوں میں موجود وہن کا مرض ✔ استکباری نظام کی آلہ کار، پست ذہنیت کی حامل، مرعوب قیادتیں ✔ عزت نفس کا بنیادی تقاضا عبدیت الہی اور حضرت عمر کا نظام انصاف کا مطالعہ ✔ دینی اقدار اور حمیت کے لیے عزت نفس اور اجتماعی شعورکی ضرورت
لھو و لعب کی حقیقت اور اس کے اطلاق کا انحرافی تصور اور صحت بخش ارتفاقی سرگرمیوں کی قرآنی وتاریخی رہنمائی کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارک بتاریخ: 10؍ شعبان المعظم 1447ھ / 30؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنیوَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔ (29 - العنکبوت: 64) ترجمہ (از حضرت شیخ الہندؒ): ”اور یہ دنیا کا جینا تو بس جی بہلانا اور کھیلنا ہے، اور پچھلا گھر (آخرت) جو ہے سو وہی ہے زندہ رہنا، اگر ان کو سمجھ ہوتی“۔ حدیثِ نبوی ﷺ:الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، ثُمَّ تَمَنَّى عَلَى اللَّهِ". (سنن ابن ماجہ، حدیث: 4260) ترجمہ: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے“۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ قرآنِ حکیم؛ بلندی فکر اور انسانی کامیابی کی اہم ترین کتاب ✔️ انسانوں کی بلندی کا معیار اور ترقی کی بنیاد‘ علوم نبوت ہیں✔️ نئے علمی زاویے متعارف کرانے والوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ✔️ نبی اکرم ﷺ کی آمد اور علوم ارتفاقات و اقترابات کی بارش ✔️ علوم القرآن و الحدیث کے درست فہم کی ناگزیریت ✔️ قرآن و حدیث کے علوم سے رسمی تعلق کے نقصانات✔️ اعلی علم کے لیے بلند ہمت اور اعلی دماغ لازمی و ضروری✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی تشریح اور سورۂ عنکبوت کا بنیادی موضوع✔️ سورت کا بنیادی موضوع منتخب کرنے کا طریقۂ کار ✔️ دنیا کی زندگی کے ’’لَهْوٌ وَلَعِبٌ‘‘ ہونے کا معنی و مفہوم ✔️ دارِ آخرت کی زندگی کی حقیقت شناسی اور لہو و لعب کا صحیح مصداق ✔️ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ہاں لہو و لعب کا درست مفہوم ✔️ اس پہلو سے حزب الشیطان اور حزب اللہ کا مقابلہ ✔️ لہو و لعب کا ادھورا و ناقص تصور ✔️ سماجی و سیاسی اور معاشی امور کو کھیل تماشہ قرار دینا‘ اصل تعلیمات سے انحراف✔️ رسول اللہ ﷺ اور جماعتِ صحابہ کرام کی سماجی و سیاسی اور اقتصادی امور کی انجام دہی‘ لہو و لعب تھا؟✔️ برطانوی سامراج کے تسلط کے بعد کا غلط بیانیہ نیز کسروی کھیل اور سیاسی چال کا سدِ باب کرنے کے لیے حضرت عمرؓ کی ہرمزان سے مشاورت ✔️ غلط پروپیگنڈا نیز تاتاریوں کا قبول اسلام کے بعد غلبۂ دین کے لیے کردار✔️خطبے کی مرکزی حدیث کا معنی و مفہوم ✔️ تمناؤں اور خواہشات کا اسیر‘ لہو و لعب کا مصداق ✔️ سماجی بگاڑ، سیاسی ظلم اور معاشی بدحالی کا شیطانی کھیل اور ”لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“ کی روشنی میں دعوتِ فکر ✔️ آج کا شعوری پیغام اور مومن کا بنیادی فریضہhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/
ربوبیّتِ اقوام کے اُصول سے انحراف، نوآبادیاتی جبر اورآلۂ کار طبقے کے سماجی بگاڑ کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمٰن حفظہ اللہبتاریخ: ۳؍ شعبان المعظم ۱۴۴۷ھ / 23؍ جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی :وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ۔فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ۔لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا، إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ۔ (الانبیاء:11-13)ترجمہ: اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ظالم تھیں غارت کر دیا ہے اور ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں۔ پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ فوراً وہاں سے بھاگنے لگے۔ مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں جاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔ اجتماع انسانی میں باہمی تعاون کا اصول ✔ ربوبیت اقوام کی اساس پر بننے والے سماجی نظام ✔ تاریخ کا اصول اورظالم قوموں کا انجام ✔ نوآبادیاتی ذہنیت کے سماج پر تباہ کن اثرات ✔ نوآبادیاتی ارتقاء اور جبر و استحصال کا قومی دور ✔ پاکستان کی سیاسی و معاشی حقیقت اوراصل نظام کو چھوڑ کر نتائج پر بحث کارویہ ✔ قانون شکن اشرافیہ اوراستحصال زدہ اکثریت ✔ برصغیر کی تابناک تاریخ اورآزاد مملکت کی حقیقی پہچان ✔ سوسائٹی کے اصل مرض کی شناخت ، جماعتوں کے بے معنی ٰ منشور اور ہماری ذمہ داری
مذہبی انحراف اور نسل پرستی پر استوار عالمی صہیونی تسلط اور قومی شعوری بیداری کا اجتماعی تقاضا خطبۂ جمعۃ المبارک حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 26؍ رجب المرجب 1447ھ /16؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہنما قرآنی آیت وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗؕ-قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَؕ-یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا٘-وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ (المائدہ:18) ترجمہ: اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہہ دو پھر تمہارے گناہوں کے باعث وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے بلکہ تم بھی اور مخلوقات کی طرح ایک آدمی ہو جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے اور آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇 ✔ دین اسلام اور منحرف مذہبی گروہ ✔ علم المخاصمہ (قرانی تعلیمات کی روشنی میں چار منحرف گروہوں کے رویوں کا علمی تجزیہ) ✔ یہود ونصاریٰ کا مفاداتی اتحاد اور نسلی برتری کا دعویٰ ✔ صہیونیت کی حقیقت اور اس کا دائرہ کار✔ ملت ابراہیمی کا قرآنی بیان اور ابراہام اکارڈ ✔ نسلی و مذہبی عنوان اور گروہیتوں کا انسداد ✔ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ شعوری جدوجہد کا عصری تقاضا ✔ موجود صہیونی عالمی نظام کے خلاف عوامی بیداری کی ضرورت ✔ قرآن کا اسلوب بیان اور معاصر تعبیر اور ہماری ذمہ داریاں
قومِ ثمود کے کردار کی روشنی میں "امن" کے نام پر بدامنی کے عالمی کردار کا جائزہ اور نبوی اقترابی و ارتفاقی عادلانہ نظام کی ناگزیریتخطبۂ جمعۃ المبارکبتاریخ: 3؍ شعبان المعظم 1447ھ / 23؍ جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِقرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنیوَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48) ترجمہ: ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔ حدیثِ نبوی ﷺ:”أن رسولَ اللهِ ﷺ نهى أن تُكْسَر سِكَّةُ المسلمينَ“۔ أخرجه البيهقي (11284) واللفظ له، والحاكم (2233)ترجمہ: ”رسولِ اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مسلمانوں کے رائج سکّوں کو توڑا یا نقصان پہنچایا جائے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ ہر دم پیش آمدہ مسائل اور صراطِ مستقیم پر چلنے کاحکم✔️ انبیاءؑ کی بعثت کا ہدف؛ صراطِ مستقیم کی ہدایت و رہنمائی ✔️ انبیاءؑ کے واسطے سے اقترابات و ارتفاقات کے علوم اور ان کی عملی شکلیں✔️ دور کے علوم الاقترابات و الارتفاقات نبیِ وقت کے ذریعے دنیا میں منتقل ہوتے ہیں✔️ ملاءِ اعلیٰ؛ علوم کا مرکز و منبع اور انسانوں میں سے مقربین بارگاہ الہی اس عمل میں شریک✔️ علوم کے ذریعے سے راہِ ہدایت واضح ہونے کے بعد انسانوں کو اچھے اور برے کا مکمل اختیار✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود کے غلط رویے اور بد اعمالیوں کا تذکرہ✔️ قومِ ثمود کا اپنی تمام تر علمی، عقلی اور عملی صلاحیتوں سے فساد فی الارض مچانا✔️ ’’تسعة رھط‘‘ نو جماعتوں کے سرداروں کا فساد مچانے کا مطلب ✔️ العیاذ باللہ نبیِ وقت (حضرت صالحؑ) کو قتل کرنے کا مزعومہ منصوبہ✔️ نبی اکرمؐ کی آمد کے بعد علوم الاقترابات و الارتفاقات کا واحد ذریعہ ذاتِ گرامیﷺ✔️ کل انسانیت کے لیے رفاقتوں کے آفاقی اصول اور عبادات کا بین الاقوامی منہج‘ رسولِ اکرمؐ نے متعارف کرایا✔️ رحمت کا نظام بنانے میں رسول اللہؐ کے ساتھ کائنات کی مثالی قوتیں شریک کار✔️ وصالِ نبیؐ کے بعد ان قوائے مثالیہ کا خلفائے راشدین کے لیے واضح کردار✔️ بین الاقوامی مالیاتی خرابیاں اور اموی بادشاہ عبدالملک بن مروانؒ کا مالیاتی لین دین کا عادلانہ نظام✔️ مسلمانوں کے غلبے کے بارہ سو سالہ دور میں علوم الارتفاقات و الاقترابات میں حسنہ کا غلبہ برقرار رہا✔️ یورپین بھیڑیوں کا فسادی کردار اور ’’لِمَ تَسۡتَعۡجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِ‘‘ کے عملی مصداق✔️ ظالمانہ عالمی سرمایہ دارانہ ڈھانچہ اور’’وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ‘‘ کا انطباقی پہلو✔️ لوٹ کھسوٹ کے لیے عالمی لیٹرے‘جوتیوں میں دال بَٹنے کے محاورے کے مصداق اور ’’وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ‘‘ کی قرآنی پیشن گوئی✔️ فسادی طاقتیں اور ان کے دم چھلہ قوتوں کی ناشکری اور امن وعدل کے نام پر بدامنی و فساد کا عالمی بورڈ؟✔️ مسلمان ممالک کی نعمتوں کی ناشکری اور فسادی کردار کا انجام‘ سیاسی غلامی اور معاشی بدحالی کے عذاب میں مبتلا✔️ آج کے نام نہاد مسلمان ’’وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ‘‘ کے مصداق تو نہیں؟✔️ کیا امن کے نام پر بورڈ بنانا پچھلے سوسالہ بدامنی پیدا کرنے والوں کے منہ پر تماچہ نہیں؟ ✔️ ’’لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ‘‘ کی پکار اور مسلمانوں اور اقوام و ممالک کے لیے بنیادی پیغامhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/منجانب: رحیمیہ میڈیا
فعل الخیرات کے ابراہیمی و محمدی منہج اور اس کے تاریخی تسلسل کی روشنی میں موجودہ دور کے نظامِ جبر کے خلاف جدوجہد کی اہمیتخطبہ جمعۃ المبارک بتاریخ: 26؍ رجب المرجب 1447ھ / 16؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی: وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ۔ (21 – الأنبیاء: 73)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”اور ہم نے انھیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کیا کرتے تھے اور ہم نے انھیں اچھے کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ ہماری ہی بندگی کیا کرتے تھے“۔ احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ ”خَيْرُ النّاسِ مَن يَّنْفَعُ النّاسِ“۔ (المبسوط للسرخسي 30/ 252)ترجمہ: ”لوگووں میں سے بہترین وہ ہے، جو لوگوں کو نفع دے“۔ 2۔ الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُمَا وَجَدَهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4169]ترجمہ: ”حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ انبیاءؑ کی خصوصیت؛ معروضی حالات میں بروقت درست رہنمائی✔️ علم وفکر کی اساس پر قائم محدود عملی شکل ✔️ دو اہم باتیں؛ بروقت حکم و فیصلہ اور اس کے مطابق عملی طریقۂ کار کا تعیّن✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور تشریح و توضیح✔️ مشہور قصے کے تناظر میں حضرت ابراہیمؑ کی رشد وہدایت اور فعل الخیرات؛ غور وفکر کی دعوت اور فعل المنکرات پر تنبیہ✔️ ملتِ ابراہیمی کے ائمہ وھداة کو فعل الخیرات کی وحی اور معروض کے مطابق بے لاگ کردار✔️ حضرت ابراہیمؑ کے فعل الخیرات کے قلوب و اَذہان پر اثرات✔️ ائمۂ ھدیٰ کی دو خصوصیات✔️ کلامِ الہی کی پانچ نشئات نیز نشأةِ نسمہ محمدیﷺ کی وضاحت✔️ اسمِ ہادی کا نورِ محمدیؐ پر ظہور اور تا قیامت فیضان جاری✔️ ہر دور کے نبی کا فعل الخیرات کا منہج اور طریقۂ کار✔️ نورِ محمدیؐ سے انبیاءؑ کے فعل الخیرات کی تکمیل✔️ حضرت عیسیٰؑ رسول اللہؐ کے ارہاص✔️ شریعت و طریقت کے فعل الخیرات پر بحث لیکن سیاست اور غلبۂ دین میں اس سے پہلو تہی✔️ آج افراد و اقوام اور ریاستوں کی غلامی کے دور میں فعل الخیرات کا تعین کرنا ضروری✔️ دورِ زوال میں ولی اللہی سلسلے کے علماء کی خصوصیت؛ دور کے تقاضے کے مطابق فعل الخیرات کے لیے کردار✔️ آج کے فرعون و نمرود اور قیصر وکسریٰ کا مقابلے کرنے کے لیے فعل الخیرات کیا ہے؟ ✔️ مضبوط قومی جمہوریت کی ناگزیریت اور سامراجی کھیل✔️ جمہوریت کے خلاف پیش کی جانے والی آیت کا درست مفہوم✔️ جمہوری جدوجہد کے تناظر میں علمائے حق کے فعل الخیرات کا جائزہ✔️ ائمۂ ھدیٰ کا فعل الخیرات کا کام‘ بطور عبادت اور رضائے الہی کا ذریعہ✔️ زوال کا بڑا سبب اور علم فعل الخیرات کا عصری تقاضا https://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/منجانب: رحیمیہ میڈیا
قرآن حکیم کی نمائندہ انسانی تہذیب کے تناظر میں موجودہ استحصالی ورلڈ آڈر کے انسانیت دشمن کردار کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:19؍ رجب المرجب 1447ھ /9؍ جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیتلَا یَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(8)اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔(الممتحنہ:8-9)ترجمہ: اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تمہیں اللہ انہیں سے منع کرتا ہے کہ جو دین میں تم سے لڑے اور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے پر (لوگوں کی) مدد بھی کی کہ ان سے دوستی کرو اور جس نے ان سے دوستی کی تو پھر وہی ظالم بھی ہیں۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 0:00 آغاز00:59 مظلوم طبقات کی حفاظت؛ انبیاء کی جدوجہد کا محور06:51 دین اسلام کا بنیادی مقصد؛ ظلم کا خاتمہ، انسانی حقوق کی حفاظت11:29 قومی اور انسانی وسائل کے متعلق دین کا بین الاقوامی اصول17:46 عالمی استحصالی انجمن اور اس کے ہتھکنڈے20:19 اقوام سے تعلقات کے دینی اصول26:16 مسلم دور کے عالمی نظام کا مروج نظام سے موازنہ 31:25 دین اسلام کا جنگ کا اصول اور تقسیم انسانیت کا سامراجی طریق کار 36:24 باہمی تعاون پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کا دینی اصول 42:25 استحصال کا عالمی نظام اور عدل و انصاف کے مسلم ورثہ کے تعارف کی ضرورتhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/ منجانب رحیمیہ میڈیا
خیر و حکمت کا جامع قرآنی تصور ، اس کے قیام میں امت کے طبقات کا کردار اور معروضی تقاضےخطبہ جمعۃ المبارکبتاریخ: 19؍ رجب المرجب 1447ھ / 9؍ جنوری 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا۔ (2 – البقرۃ: 148)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ) ”اور ہر ایک کے لیے ایک طرف ہے، جس طرف وہ منہ کرتا ہے، پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو، تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو اللہ سمیٹ کر لے آئے گا “۔حدیثِ نبوی ﷺ:اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ۔ (جامع ترمذی، حدیث: 3235)ترجمہ: ” اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں “ ۔۔۔ خطبے کے چند مرکزی نکات ۔۔۔ ✔️فکری سمت کے تعین اور خیر میں سبقت کا قرآنی حکم✔️خیر بطور منظم عملی نظام، نہ کہ محض نیت یا جذبہ ✔️ہر فرد، خاندان، قوم اور ریاست کی ایک وِجْہَة✔️ بیت المقدس کی طرف سترہ ماہ رخ اور دعوتی حکمت✔️ بیت اللہ الحرام بطور عالمی قبلہ اور دعوت میں تدریج✔️ سمت کے مقابلے میں خیر کی اصل اہمیت اور جامع مفہوم✔️ نیکی میں مقابلہ: فعلُ الخیرات بمقابلہ فعلُ المنکرات✔️خیر کی متحرک حیثیت اور حکمت کے ساتھ اس کی صورت✔️ حکمت بطور خیرِ کثیر کا قرآنی اصول✔️علمُ الحکمة بطور قرآن کا بنیادی اور اولین علم✔️حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی کے دائرے✔️موعظتِ حسنہ کے بعد فعلُ الخیرات کا مرحلہ✔️فعلُ الخیرات بطور امرِ الٰہی کو عملی شکل دینا✔️امامت: وعظ نہیں بلکہ ہدایت بالامر اور اجتماعی نظم✔️حضرت ابراہیمؑ کی امامت اور امام کی دو بنیادی صفات✔️نماز کا عملی نظام بطور فعلُ الخیرات کا نمونہ✔️نَسَمَہ کا اسمِ الہادی سے رنگین ہونا اور عمل کا ظہور✔️ صِبْغَةُ اللّٰہ: عقل، قلب اور نفس کی ہم آہنگی✔️منکر بطور انسانیت دشمن عمل اور ترکُ المنکرات✔️نبوی دعا: فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات کی اہلیت✔️ہر مومن بطور امام اور حدیثِ راعی کا تصور✔️خلفائے راشدین، فقہاء، محدثین اور اولیاء کا منہج✔️فقہی قانون سازی میں حکمت کا تنوع✔️امام بخاریؒ کا حدیثی منہج بطور فعلُ الخیرات✔️اولیاء اللہ کا تزکیۂ نفس اور روحانی تطبیق✔️ہر دور میں حالات کے مطابق فعلُ الخیرات کی تعیین✔️1920 کے بعد ولی اللّٰہی جماعت اور قومی وحدت اور نیشنل ازم ✔️نَسَمَہ کی ہدایت اور فعلُ الخیرات بطور زندگی کا منہج✔️فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات بطور نجات کا قرآنی راستہ منجانب رحیمیہ میڈیا
انسانیت سے بغاوت کے نظاموں کے ردّ میں دین کے سلامتی و مالیاتی اصولوں پر سماجی نظام کی تشکیل کی ضرورت اور نسل نو کے کردار کی اہمیت خطبۂ جمعة المبارک بتاریخ: 12؍ رجب المرجب 1447ھ / 2؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی: إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ۔ (3 – آلِ عمران: 19) ترجمہ (از حضرت شیخ الہندؒ) : ”بے شک دین جو ہے اللہ کے ہاں، سو یہی مسلمانی حکم برداری، اور مخالف نہیں ہوئے کتاب والے مگر جب ان کو معلوم ہوچکا آپس کی ضد اور حسد سے، اور جو کوئی انکار کرے اللہ کے حکموں کا تو اللہ جلدی حساب لینے والا ہے“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: ”خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ“۔ (الجامع الصحیح للبخاري، حدیث: 6428) ترجمہ: ”تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔ پھر ان لوگوں کا زمانہ ہے جو اس کے بعد ہوں گے۔“🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز1:21 سلامتی کے نظام کا فہم و شعور اور علمی و عملی کردار ادا کرنے کی ضرورت3:28 خطبے کی مرکزی آیت کا ما قبل آیت سے ربط اور مختصر تشریح4:16 دینِ اسلام کے علاؤہ کوئی دین عند اللہ قابل قبول نہیں!6:02 سوسائٹی کے علمی و عملی حقائق پر مشتمل دینِ اسلام کے نظام کا قیام8:41 انسانوں میں دو طرح کی قوتیں کارفرماں نیز علمی گمراہی اور عملی خرابی کی حامل جماعتیں 11:09 اہلِ کتاب کی خرابی؛ انسانیت سے بغاوت اور سلامتی کے نظام کے قیام کا انکار13:34 بغاوت پر قائم ریاستیں اور ممالک اور بقائے انسانیت کے لیے سلامتی کا نظام لازمی و ضروری14:49 بغاوت کی اساس پر دین کے لیے ریلیجن کی اصطلاح‘ سامراجی ہتھکنڈا15:41 اسلام کے دین ہونے کی بنیاد علم پر قائم17:13 نوعِ انسانیت کی بقاء و سلامتی کا سسٹم: معروفات کا حکم اور مُنکرات کی ممانعت 20:48 سلامتی کے نظام کے اصول یکساں لیکن معروض کے مطابق منہج (حکمت عملی) مختلف 23:46 تورات کی شکل میں سلامتی اور انسانی اقدار پر مبنی پہلا آئین اور یہود کی بغاوت24:43 حضرت موسیٰؑ کا تورات کے سلامتی کے نظام کی حفاظت اور نفاد کی وصیت28:02 تیسرے قرن کے بعد نظامِ تورات میں بگاڑ پیدا ہوا28:38 ملکی نظام کی دو اساسیات اور بے اختیار حکومتوں کا تحلیل و تجزیہ31:23 اہلِ کتاب کا اختیارات و وسائل کا غلط استعمال‘ آیت کے تناظر میں ان کی بغاوت کا جائزہ37:09 حضور ﷺ کے زمانے کے اہل کتاب کا علم ہونے کے باوجود بغاوت و سرکشی کا رویہ42:56 ہر نبی اور ان کی جماعت کا سلامتی کے نظام کے لیے جدوجہد؛ تاریخی جائزہ44:31 سلامتی کے نظام کے لیے اگلی نسلوں کے کردار کی نبویؐ نشان دہی 47:29 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ’’قرن‘‘ کی لاجواب تشریح 50:25 سلامتی و سیاسی نظم و نسق اور مالیاتی ڈسپلن پر مبنی نبویؐ قرن53:15 مربی و رہنما کا مطمح نظر نیز نبی رحمتﷺ کا اہلِ طائف سے حد درجے سلامتی کا طریقہ 55:35 اگلی نسلوں میں سلامتی کے دین کو منتقل کرنے میں حضرت عمر فاروقؓ کا کردار1:00:57 حضرت امیر معاویہؓ کا اگلے دور میں امن و سلامتی کے نظام کے قیام کے لیے بے لاگ کردار1:02:36 حضرت امیر معاویہؓ کا شاہانہ طرزِ حکومت اختیار کرنے کا ہدف و مقصد 1:11:00 حضرت امیر معاویہؓ کے لیے ’’کسری العرب‘‘ کے لقب کا درست معنی و مفہوم1:11:45 حضرت ابن عباسؓ کی پیدائش کے وقت حضورؐ کی خلافت بنو عباس کی پیشنگوئی 1:14:16 حدیثِ قرونِ ثلاثہ کو سیاست و خلافت کے نظام کے بغیر بیان کرنا‘ ناقص تشریح 1:19:35 یورپین قزاقوں اور بھیڑیوں کا سلامتی کے علی الرغم بدامنی و لوٹ مار پر مبنی بغاوت کا نظام1:23:03 سرمایہ دارانہ نظام؛ علمی بغاوت، انسانی اقدار اور سلامتی کی پامالی1:24:59 اگلی جنریشن کے سوالات و تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت؛ ولی اللہی مشائخ کی امتیازی خصوصیت1:28:44 اگلی جنریشن کے تقاضوں کے مطابق سلامتی کا سیاسی نظم و نسق اور مالیاتی ڈسپلن کا شعوری فہم اور عملی جہدوجہدبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
سماجی تعمیر کے لیے توحید و عدل کے اُصول پر صاحِبُ الرائے اجتماعیت کی ضرورت واہمیتخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمٰن حفظہ اللہبتاریخ: ۵؍ رجب المرجب ۱۴۴۷ھ / 26؍ دسمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی :قُلۡ اَمَرَ رَبِّىۡ بِالۡقِسۡطِ وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ؕ كَمَا بَدَاَكُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ۔ (-7الاعراف:29)ترجمہ: کہہ دو میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور ہر نماز کے وقت اپنے منہ سیدھے کرو اور اس کے خالص فرمانبردار ہو کر اسے پکارو جس طرح تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اسی طرح دوبارہ پیدا ہو گے. ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:44 قسط اور عدل کا عالمگیر اصول5:16 انسانوں میں ارادہ اور اختیار کا اصول10:09 انسانی سماج میں عدل کا اصول14:26 رائے دینے کا حق اورمشاورت و عدل کا باہمی تعلق19:18 صاحب الرائے جماعت اور عصر حاضر کا مشاورتی ڈھونگ23:23 شعوری بنیادوں پر رائے کا حق (اسوہ حسنہ کی روشنی میں)29:52 قسط اور عدل کے اصول پر جماعت صحابہؓ کی تربیت35:14 دین کے دو اساسی شعبے (توحید اور عدل)40:16 عدل کا انفرادی و اجتماعی تقاضا45:15 شریعت اور عدل کا باہمی تعلق اور عدل کی پامالی کے سماجی اثراتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
ردّ نوآبادیاتی تناظر میں نظام فطرت پر استوار دینِ اسلام کا علمی بیانیہ اور اس کی اساس پر انسان دوست نظام کے قیام کی ناگزیریتخطبہ جمعۃ المبارکبتاریخ: 5؍ رجب المرجب 1447ھ / 26؍ دسمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنیہ: 1۔ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (3 – آلِ عمران: 190-191)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”بے شک آسمان اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آنے جانے میں البتہ عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ وہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے ہیں، (کہتے ہیں): اے ہمارے رب ! تُو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا، تُو سب عیبوں سے پاک ہے، سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا“۔ 2۔ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ (2 – البقرۃ: 284)ترجمہ: ”جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے اور اگر تم اپنے دل کی بات ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے اللہ تم سے اس کا حساب لے گا پھر جس کو چاہے بخشے گا اور جسے چاہے عذاب کرے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔ دینِ اسلام کے مکمل علمی و عملی نظام کا فہم و ادراک، بقائے انسانیت کے لیے ضروری ✔ انسانیت‘ حیوانیت کے بھنور میں، راہِ نجات کیا ہے؟✔️ ذات خداوندی کے ساتھ سچا تعلق؛ مقاصد و اہداف✔️ انسان میں اصل حیثیت روح کی ہے، نہ کہ محض جسم کی!✔️ انسانی روح کے تقاضوں کے تین مراکز؛ نفس، قلب، عقل؛ دو دائرے اور اثرات و نتائج ✔️ انسان کی وِجدانی حالت‘ حصولِ علم کی سب سے اعلیٰ قسم✔️ صحیح اور فاسد وِجدان کا دار ومدار اور اَثرات و نتائج✔️ خدا شناسی کا شعور و ادراک‘ ہر انسان کا فطری وِجدان ✔️ عقل مند انسان کے لیے قرآنی معیارات اور ان کا معرفتِ خداوندی کے لیے غور و تدبر ✔️ عقلی غور و فکر کے نتیجے میں حضرات انبیاء علیہم السلام کا اقترابات و ارتفاقات کے عملی نظام کا قیام ✔️ ریاست و سیاست اور نظام کی ضرورت و اہمیت اور ذمہ داریاں ✔️ دینی سسٹم کی اَساسیات ✔️ حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے حیوانی عقل کی بنیاد پر سوالات اور اس کا علاج ✔️ خدا شناسی کے متعلق عقلی شکوک و شبہات کا قرآنی مخاصمہ✔️ اسلام کے بارہ سو سالہ دورِ عروج میں ہر علمی و عملی شبہے کے ازالے کے لیے مکمل رہنمائی ✔️ ہندوستان میں دورِ زوال میں اسلام کے متعلق علمی شکوک وشبہات کے ہتھکنڈے ✔️ شکوک وشبہات پر مبنی غلامی کا نیا علمی بیانیہ؛ پسِ پردہ محرکات ✔️ عیسائی مشنری کی طرف سے خدا کے وجود پر سوالات اور حضرت نانوتویؒ کا حقانیتِ اسلام کا عملی و عقلی بیانیہ ✔️ اس علمی بیانیے کی اساس پر حضرت نانوتویؒ کا ”حجۃ الاسلام“ کے لقب سے موسوم ہونا ✔️ نوآبادیاتی دور کے بیانیے کی ناکامی؛ برٹش شہنشاہیت کا تشدّد اور فتوے بازی کے ماحول کا حربہ نیز مناظروں و مذہبی مکالموں کی اساس پرعلمی تقاضوں سے رُوگردانی ✔️ یورپین سامراجی نظام کے زیرِ اثر نام نہاد اسلامی جماعتیں اور ان کے بیانیے ✔️ وجودِ باری تعالیٰ پر بحث و مباحثے قابلِ تحسین لیکن دین کے عملی نظام کے قیام کے حوالے سے مکالمہ کیوں نہیں؟✔️ عملی نظام سے کٹا ہوا علمی بیانیہ کمزور حیثیت رکھتا ہے ✔️ علمی مکالمہ اور دو انتہائیں ✔️ معروضی تقاضے؛ دین اسلام کا ٹھوس علمی بیانیہ اور عملی نظام کے قیام پر مکالمے و مباحثے کی ناگزیریتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
حکمتِ نظری و عملی کے دائروں میں ولیُ اللّٰہی اُسلوبِ فکر اورعصرِ حاضر کی حکمتِ سعیدیہ کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 27؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 19؍ دسمبر 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنیآیتِ قرآنی:ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔ (-16 النّحل: 125)ترجمہ: ”اپنے رب کے راستے کی طرف دانش مندی اور عمدہ نصیحت سے بلا اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز 1:15 ادھورے اور ناقص نظام اور دینِ اسلام کے کامل و مکمل فکر و عمل کی دعوت3:24 حکمت کا بنیادی اصول؛ غلط افکار و نظریات اور اعمال کو روک کر صحیح سمت کی طرف گامزن کرنا9:10 حکمت کے دو دائرے؛ حکمتِ نظری و عملی اور انبیاءؑ کی بعثت11:08 ایمان کی تعریف؛ ہر علم و عمل میں اتباعِ رسول اللہ ﷺ اور اس پر پختہ یقین12:44 حکمت نظری و عملی کی تین قسمیں19:35 نبی اکرم ﷺ کی حکمت کے ان چھ دائروں کی درستگی کی دعوتِ حق اور درست فکر و عمل کا تعین20:10 مکہ میں مشرکین کے غلط الوہی تصورات اور مدینہ میں یہود ونصاریٰ کے فاسد ابہامات کا رد27:48 آپؐ کا حکمتِ ریاضیہ و طبیعیہ کے نکتۂ نظر سےغلط تصورات و خیالات کی تردید اور صحیح فکر و عمل کا تعین35:03 حکمتِ عملیہ کے تینوں دائروں میں نبی اکرمؐ کی رہنمائی46:15 خلفائے راشدینؓ کا اس حوالے سے اسوۂ حسنہ کا کامل اتباع اور حکمت، موعظتِ حسنہ و مجادلہ و حسنہ کی اساس پر مضبوط و مستحکم قومی و بین الاقوامی نظام کا قیام56:34 گذشتہ خطبہ جمعہ سے ربط و تعلق✔ پہلے دور میں فلسفہ، حکمتِ نظری و عملی کا چیلنج اور ولی اللہی حکمت کا اسلوب✔ دوسرے دور (1857ء) میں دہریت و غلامی کا چیلنج اور امداد اللہی و قاسمی ورشیدی حکمتِ عملی✔ تیسرے دور (1947ء) میں جدید ظالمانہ نظام کا چیلنج اور حکمتِ سعیدیہ کی اساس پر مجدد العصر کا فکرو عمل✔ آج کا معروضی تقاضا اور دعوتِ فکر و عملبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
دین اسلام کا تصور عدل و توازن اور امتِ وسط کی ذمہ داریخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ: 7؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 28؍ نومبر 2025ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہنما قرآنی آیتوَجَاهِدُوْا فِى اللّـٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ ۚ هُوَ اجْتَبَاكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِى الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ۚ مِّلَّـةَ اَبِيْكُمْ اِبْـرَاهِيْـمَ ۚ هُوَ سَـمَّاكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِىْ هٰذَا لِيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُـوْنُـوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ ۚ فَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّـٰهِۖ هُوَ مَوْلَاكُمْ ۖ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْـرُ (الحج:78) ترجمہ: اور اللہ کی راہ میں کوشش کرو جیسا کوشش کرنے کا حق ہے، اس نے تمہیں پسند کیا ہے اور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی، تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، اسی نے تمہارا نام پہلے سے مسلمان رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو، پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوط ہو کر پکڑو، وہی تمہارا مولٰی ہے، پھر کیا ہی اچھا مولٰی اور کیا ہی اچھا مددگار ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔ اسلام دین فطرت اور دیگر عنوانات پر قائم مذاہب کی حقیقت ✔ دین محمد ﷺ کی حقیقی پہچان اور ملت ابراہیم ✔ الٰہی شریعت کی خصوصیت اور انسانی قوانین ✔ انسانیت کی ابدی اقدار ✔ قابل تغیر احکام اور دین اسلام کی متوازن شریعت ✔ فرد اور اجتماعیت میں توازن اور انتہا پسندانہ فلسفے ✔ دینی اسلام کے شعبوں (شریعت، طریقت اور سیاست) میں توازن ✔ رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ سے توازن کی سنت ✔ اخلاق اور معیشت میں توازن کا دینی تصور ✔ ہر شے کے حق کی ادائیگی (حضرت ابو درداؓ اور حضرت سلمان فارسی ؓکا واقعہ) ✔ غلبہ دین کے لیے جدوجہد کا حق اور تنگی کی ممانعت ✔ اسوہ حسنہ او رایمان والی جماعت کی ذمہ داری ✔ دین کی بنیادی پہچان (توازن اور عدل)بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
مواطنِ حیاتِ انسانی اور مشائخِ رائے پور کا سلسلۂ ولایت؛ حکمتِ سعیدیہ کے تناظر میں مولانا محمد عباس شادؒ کا یقظانی کردارخُطبۂ جمعۃ المبارکحضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ : 13؍ جمادی الاخریٰ 1447ھ / 05؍ دسمبر 2025ءبمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِؕ وَاِنَّمَا تُوَفَّوۡنَ اُجُوۡرَكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِؕ فَمَنۡ زُحۡزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدۡخِلَ الۡجَـنَّةَ فَقَدۡ فَازَ ؕ وَمَا الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ (03– آل عمران: 185)ترجمہ: ’’ہر جی کو چکھنی ہے موت اور تم کو پورے بدلے ملیں گے قیامت کے دن پھر جو کوئی دور کیا گیا دوزخ سے اور داخل کیا گیا جنت میں اس کا کام تو بن گیا اور نہیں زندگانی دنیا کی مگر پونجی دھوکے کی‘‘۔حدیثِ نبوی ﷺ :۱۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ" يَعْنِي: الْمَوْتَ.ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو توڑنے والی (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4258] ۔ ۔ ۔ ۔ خُطبے کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ 1۔ موت اور انسانی زندگی کا فلسفہ✔️ انسانی زندگی کا خاتمہ ایک اٹل حقیقت✔️ موت کا وجودی مقام اور اگلے موطن تک رسائی✔️ انسان کے مواطن اور ان کے اثرات✔️ جسمانی و روحانی ارتقاء کے معیار✔️ دنیاوی زندگی کی حیثیت: "متاعِ غرور"✔️ مرنے کے بعد ہیئتِ نفسانی کے مطابق نتائج✔️ 2۔ قبر و حشر کے مراحل اور روحانی قانونِ جزا✔️ مسلمانوں اور منافقوں کے مراتبِ قبر و حشر✔️ نیک اعمال کا نعمتوں اور بد اعمالیوں کا سزا کی صورت میں جواب✔️ حدیث: محبت اور حشر کی نسبت✔️ قیامت میں جماعتوں کے اپنے امام کے ساتھ اٹھائے جانے کا قانون✔️ روحوں کی باہمی محبت و نفرت اور اس کے اثرات✔️3۔ انبیاء کی اجتماعیتیں، روحانی لشکر اور ولایت کا تسلسل✔️ ارواح کے متنوع لشکر✔️ قرآن میں انبیاء کی جماعتوں کا حوالہ اور شاہ صاحب کا منفرد استدلال✔️ اجتماعیتِ انبیاء کے غلبے کا وعدہ✔️اولیاء اللہ کے سلاسل کا جاری ارتقاء✔️ صحبت کے ذریعے ہدایت و ضلالت کا انتقال✔️ اجتماعی ماحول کا فرد کی دنیا و آخرت پر اثر✔️4۔ مشائخِ رائے پور کی روحانی روایت اور حضرت عباس شادؒ کا تعلق✔️حضرت شاہ عبدالعزیز رائے پوریؒ کی مشائخ سے محبت✔️اولیاء کی روحوں کا اپنے محبین کو کھینچ لینا✔️انسان کے اگلے مواطن کا اثر: بلوغت سے موت تک✔️ مولانا محمد عباس شادؒ کی خانقاہ سراجیہ کندیاں سے تربیت کا آغاز✔️ 5۔ مولانا محمد عباس شادؒ کی تعلیمی و تربیتی زندگی کا سفر✔️ابتدائی تربیت: جامعہ عربیہ اسلامیہ بورے والا✔️جامعہ اشاعت العلوم میں تعلیمی قیام✔️جامعہ رشیدیہ اور پھر جامعہ اشرفیہ سے سندِ فراغت✔️مشائخ اور مفتیانِ کرام کی صحبتیں✔️6۔ حضرت شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کی صحبت اور مولانا شادؒ کی فکری تشکیل✔️حضرت شاہ سعید احمد کی توجہات اور عملی تربیت✔️شعبہ مطبوعات کی طرف رہنمائی✔️حکمتِ سعیدیہ کے فروغ کی ذمہ داری✔️مولانا شادؒ کا "یقظان بالطبع" ہونا✔️تجدیدی فکر کے عصری تقاضوں کی خدمت✔️7۔ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ میں 25 سالہ خدمات✔️ ابتدائی مطبوعات اور مکی دار الکتب کا دور✔️’’قرآنی شعور انقلاب اور مشائخِ رائے پور‘‘ کی طباعت✔️ادارہ رحیمیہ کے طباعتی و علمی منصوبوں کی سرپرستی✔️جدید ابلاغ کے دور میں مسلسل جدوجہد✔️حکمتِ سعیدیہ کے لیے سپاہیانہ کردار✔️8۔ زندگی کے مصائب، آزمائشیں اور روحانی استقامت✔️ دنیاوی مشکلات کا سامنا اور صبر و رضا کا مقام✔️ آخرت کی کامیابی کا اصول✔️ آزمائشوں کے بعد انعامات کا وعدہ✔️ رجوع الی اللہ ہر مصیبت کا شفا بخش نعم البدل✔️اجتماعیت سے فرد کی جدائی اور اس کے اثرات✔️ 9۔ سانحہ ارتحال اور اہلِ دل کی کیفیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا























