Discoverخطبات
خطبات
Claim Ownership

خطبات

Author: Rahimia Institute of Quranic Sciences

Subscribed: 28Played: 1,551
Share

Description

پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان
Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistan
w: www.rahimia.org
FB: @rahimiainstitute
510 Episodes
Reverse
اِتباعِ شہوات کے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابل ضبطِ نفس اور حرمتِ اِنسانیت کا دِینی تصوّر ،  ماہِ صیام کے تناظر میں جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:23؍رمضان المبارک  1447ھ /13؍مارچ  2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیتوَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡکُمۡ ۟ وَ یُرِیۡدُ الَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الشَّہَوٰتِ اَنۡ تَمِیۡلُوۡا مَیۡلًا عَظِیۡمًا، یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا. (النساء:27-28)ترجمہ: اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اپنی رحمت سے متوجہ ہو، اور جو لوگ اپنے مزوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ سے بہت دور ہٹ جاؤ۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کر دے، کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت اور  انسان  کی   خصوصیت ✔ انسان کی دو صفات: حیوانیت اور روحانیت ✔ معرفتِ ربّ بذریعہ معرفتِ نفس ✔ اتباعِ شہوات اور عقل کی مغلوبیت ✔ انسانی تحریصات  پر غیر پیداواری صنعت کی تشکیل ✔ انسان کی غالب حیثیت اور  روزے کے ذریعہ شہوات کی تنظیم ✔ انسانی ہوس کو ابھارنے والا سرمایہ داری نظام ✔ امریکہ کا  قائم کردہ  انسانیت دشمن   عالمی نظام ✔ عالمی سرمایہ دارانہ  نظام  میں انسانوں کی تحقیراور  نوجوانوں میں اس  کی مرعوبیت ✔ دین اسلام میں انسانی حرمت  اور سرمایہ داری نظام  میں  حقوق کی پامالی ✔ ماہ صیام کے بنیادی مقصد  کے تناظر میں سرمایہ پرستی  سے مرعوب نوجوانوں  کے لیے شعوری پیغام ✔ انسانی  آزادی  اور ترقی کے لیے دین کے   آسان نظام  اور سرمایہ داری کے جبری نظام کا موازنہ ✔ رمضان؛انسانی   بیداری اور اقدار  کی ترقی  کا مہینہ
تقریب رونمائی امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی دو مایہ نار کتب؛ ’’إزالة الشُّبْھَة عن فَرْضِيَّةِ الـجُمُعة‘‘(عربی) و امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی سیاسی تحریک  کی تقریب رونمائی  اظہارِ خیال : حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن بتاریخ : ۲۵؍رمضان المبارک 1447ھ / 15؍ مارچ 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
تقریب رونمائی امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی دو مایہ نار کتب؛ ’’إزالة الشُّبْھَة عن فَرْضِيَّةِ الـجُمُعة‘‘(عربی) و امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی سیاسی تحریک  کی تقریب رونمائی  اظہارِ خیال : حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ : ۲۵؍رمضان المبارک 1447ھ / 15؍ مارچ 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
تقریب رونمائی امامِ انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی دو مایہ نار کتب؛ ’’إزالة الشُّبْھَة عن فَرْضِيَّةِ الـجُمُعة‘‘(عربی) و امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ان کی سیاسی تحریک  کی تقریب رونمائی  اظہارِ خیال : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : ۲۵؍رمضان المبارک 1447ھ / 15؍ مارچ 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہوربروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
دینی سیاسی شعور کی تشکیل میں رمضان المبارک کے تربیتی کردار کی اہمیت؛ فتح مکہ کے تاریخ ساز انقلاب کے تناظر میں جائزہخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 23؍رمضان المبارک 1447ھ / 13؍ مارچ 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبویﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ اِذَا  جَآءَ  نَصۡرُ اللّٰہِ  وَ  الۡفَتۡحُ، وَ  رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ  دِیۡنِ اللّٰہِ  اَفۡوَاجًا، فَسَبِّحۡ  بِحَمۡدِ رَبِّکَ وَ اسۡتَغۡفِرۡہُ  ؕؔ اِنَّہٗ کَانَ  تَوَّابًا ۔ (110 -نصر)ترجمہ : ” جب پہنچ چکے مدد اللہ کی اور فیصلہ، اور تو دیکھے لوگوں کو داخل ہوتے دین میں غول کے غول، تو پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں اور گناہ بخشوا اس سے بیشک وہ معاف کرنے والا ہے“۔2۔ اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا، لِّیَغۡفِرَ  لَکَ اللّٰہُ  مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعۡمَتَہٗ  عَلَیۡکَ وَ یَہۡدِیَکَ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا۔ (48- فتح: 1-2)ترجمہ : ” ہم نے فیصلہ کردیا تیرے واسطے صریح ، تاکہ معاف کرے تجھ کو اللہ جو آگے ہوچکے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے اور پورا کر دے تجھ پر اپنا احسان اور چلائے تجھ کو سیدھی راہ“۔ حدیث نبویﷺ:1۔ ” الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ “. (سنن ابن ماجہ، حدیث:2628)ترجمہ: ” اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور کفار کے گروہوں کو اس نے اکیلے ہی شکست دے دی “۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ رمضان المبارک‘ قلب، عقل اور نفس کو تین دینی مقاصد کے تحت اقدامات کی صلاحیت و استعداد پیدا کرنے کا مہینہ✔️ رمضان المبارک میں اہم دینی شعبہ؛ سیاستِ نبویہ سے لاپرواہی و غفلت کا عمومی ماحول✔️ شریعت، طریقت اور سیاست کا آپس میں  گہرا تعلق✔️ دینِ اسلام کے سیاسی استحکام کا رمضان سے بڑا جوڑ✔️ نبی اکرمؐ کی سیاسی زندگی سے بے شعوری و بے اعتنائی کی اصل وجہ ✔️ دینِ اسلام کی خلافت و حکومت کے خلاف غلط پروپیگنڈا‘ خرابی کی جڑ✔️ رمضان المبارک سیاسی سوچ کے تزکیے اور  انسانیت کے آئین اور دستور؛ قرآنِ حکیم کے نزول کا مہینہ✔️ تلاوتِ قرآن، قیامِ لیل اور فہم قرآن سے سیاسی رائے قائم پیدا کرنا ضروری✔️ نبی اکرمؐ کا بحیثیت حکمران اور آپؐ کی تیار کردہ مستحکم رائے رکھنے والی بنیاد مرصوص جماعت کا شعوری سیاسی مطالعہ✔️  نبی اکرمﷺ کی سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں فتح مکہ  کاپسِ منظر اور پیش منظر✔️ فتح مکہ کا آغاز صلح حدیبیہ سے ہوانیز فتحِ مبین کی توضیح و تشریح✔️ معاہدہ صلحِ حدیبیہ؛ حضورؐ کی مدبرانہ اور مستحکم سیاسی رائےاور ریاستِ مدینہ کو تسلیم کرنے کا اظہار✔️ معاہدے کے بعد سیاسی طاقت کو تسلیم کرنے کے لیے وفود کی مدینہ آمد✔️ قریش مکہ کے اتحادی قبیلے بنو بکر کا ریاستِ مدینہ کے اتحادی قبیلے بنو خزاعہ پر حملہ  ✔️ مکہ کی بڑی طاقت کے سربراہ ابوسفیانؓ کا معاہدے کی توسیع کے لیے درخواست کرنا✔️ دس رمضان المبارک کو فتحِ مکہ کے لیے نبی اکرمؐ کی مدینہ سے روانگی ✔️ ابو سفیانؓ کا حضورؐ کی خدمت میں پیش ہو کر اسلام قبول کرنا✔️ قریش کےلیے عام معافی کا اعلان اور بیعت عام✔️ فتح مکہ کے بعد سیاسی طاقت کا اظہار اور اردگرد کے قبائل کی حلفِ وفاداری✔️ حضورؐ کے اولو العزم صحابہؓ  کا دنیا بھر میں اسلام کی آبیاری میں روشن کردار✔️ رمضان المبارک میں دین اسلام کے غلبے کی تاریخ کے مطالعے اور سیاسی شعور اجاگر کرنے  کی ضرورت واہمیتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
پیغامِ رمضان اور اسوۂ بدر کے تناظر میں جماعتِ شیخ الہندؒ کی جدوجہد آزادی اور ایرانی انقلاب پر اس کے اثرات: قتل و غارت کے عالمی نظام کے خلاف جرات مند قیادت کو خراجِ تحسینخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 16؍رمضان المبارک 1447ھ / 6؍ مارچ 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:آیاتِ قرآنی:1۔ وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمۡ  تَشۡکُرُوۡنَ ۔ (3 -آل عمران: 123)ترجمہ : ” اور تمہاری مدد کرچکا ہے اللہ بدر کی لڑائی میں اور تم کمزور تھے سو ڈرتے رہو اللہ سے تاکہ تم احسان مانو“۔2۔ وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ ۚ فَمَا وَہَنُوۡا لِمَا اَصَابَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَ مَا ضَعُفُوۡا وَ مَا اسۡتَکَانُوۡا ؕ وَ اللہُ  یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ ۔ (3- آل عمران: 146)ترجمہ : ”اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے“۔خطبے کی رہنما احادیثِ نبویہﷺ:1۔ ” مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“. (صحیح بخاری، حدیث:38)ترجمہ: ” جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے “۔2۔ ” مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“. (صحیح بخاری، حدیث:37)ترجمہ: ” جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان رکھ کر اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں “۔3۔ ”كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الظَّمَأُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ“. (سنن دارمی، حدیث: 2755)ترجمہ: ”کتنے روزے دار ایسے ہوتے ہیں جن کو روزے کا کوئی ثواب نہیں ملتا، وہ (بھوکے) پیاسے رہتے ہیں، اور کتنے رات میں عبادت کرنے والے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے قیام کا رت جگے (جاگنے) کے سوا کوئی فائدہ نہیں“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️رمضان المبارک؛ نزولِ قرآن اور فتحِ بدر کا مہینہ✔️ ریاستیں ہمیشہ سے امن ، عدل اور معاشی خوشحالی پر قائم ہوتی رہی ہیں✔️ معاشروں میں ظلم و ستم، غلامی، بدامنی کی صورت میں انبیاءؑ کی بعثت✔️  خطبے کی مرکزی آیت’’وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ ‘‘ کی روشنی میں تربیت یافتہ جماعتِ صحابہ کے معرکۂ بدر کا ذکر✔️ خطبے کی دوسری آیت’’وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ‘‘ کی تشریح✔️ رمضان‘ انقلابات کا مہینہ نیز خطبے کی مرکزی حدیث میں روزے کے اہداف و مقاصد کا ذکر✔️ تقویٰ کی تین اساسیات؛ فہم و شعور، حق پرستی اور بلا عوض تعلیم و تربیت✔️ تقویٰ کی اساس پر انبیاءؑ کی جماعت سازی اور سچی، باشعور، حق پرست اور تربیت یافتہ جماعت کے لیے غلبے کا وعدہ✔️ ’’یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ‘‘ بنی اسرائیل کے لیے بلاد الشام کے وعدے کی اساسیات اور یہودی مغالطے کی نشان دہی✔️ بلاد الشام کا وعدہ‘ خاص نسل، رسمی مذہب اور قومِ عمالقہ کا کردار اداکرنے والے انسانیت دشمنوں یہودیوں کے لیے نہیں!✔️ بلاد الشام اور زمین پر اللہ کی حکمرانی قائم کرنے  کا اصل حق دار✔️ عربوں کی ترکوں کے خلاف بغاوت کے پسِ پردہ  یہی انسان دشمنی اور نسلی  ذہنیت کار فرما✔️ امنِ عالم کی تباہی میں سامراجی و طاغوتی طاقتوں، ان کی حامی رجعت پسند مذہبیت اور آلہ کار طبقات کا گِھناؤنا کردار✔️ غزوہ بدر میں نبی اکرمؐ نے  نیا منظم ملڑی ازم متعارف کرایا✔️ صبر و استقامت، تقویٰ اور عزم و ہمت والی جماعت کے لیے میدانِ بدر میں فرشتوں کا تعاون؛ مفسرین کی دو آراء✔️ نبوی غزوات اور اسلامی جنگوں کا سبق؛ تنظیم سازی، منظم حکمت عملی اور غیر روایتی جنگ✔️ ہندوستان کی جدوجہدآزادی میں شیعہ و سنی طبقوں کے حریت پسندوں کا کردار✔️ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا شیعہ سنی مناظرے اور اشتعال انگیزی کے خاتمے کے لیے کردار✔️ عالمی سامراج کا بلا تفریق شیعہ وسنی مسلم و غیر مسلم ملکوں کو رَوندنا اور ہمارا المیہ✔️ آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای‘ ولی اللہی  تحریک کی جدوجہدِ آزادی کے کردار کے معترف✔️ ایرانی شیعہ علماء کے حریت پسندانہ تصورات میں جماعت شیخ الہندؒ کا رہنماء کردار✔️ ایرانی انقلاب کے مثبت سیاسی و معاشی اور تہذیبی اثرات✔️ جمعة المبارک کی اجتماعیت اور خطبہ جمعہ کے مقاصد✔️ ایران پر سامراجی یلغار اور سپریم لیڈر کو شہید کرنا کس قانون کے تحت؟✔️ آزادی و حریت اور حکمرانی کی بھی ایک لذت و مٹھاس ہوتی ہے✔️ نسبتِ ائمۂ اہل بیت کے حاملین، رجعت پسند گروہیت اور کامیابی کا آفاقی اصول✔️ ماہِ رمضان اور پیغام فکر و عملبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute منجانب: رحیمیہ میڈیا
ملت ابراہیمی کی اساس پر دین محمدی کا جامع جادہ اعتدال، ماہ رمضان المبارک کے اعمال کے تناظر میںخطبۂ جمعۃ المبارک خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ : 9؍رمضان المبارک 1447ھ / 27؍ فروری 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیاتِ قرآنی:1۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ (2 البقرہ: 183)ترجمہ: ”اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے پہلے لوگوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ2۔ قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ (6 – الأنعام: 161)ترجمہ: ”کہہ دو! میرے رب نے مجھے ایک سیدھا راستہ بتلا دیا ہے، ایک صحیح دین ابراہیم کی ملت جو ایک ہی طرف کا تھا، اور مشرکوں میں سے نہیں تھا“۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ رمضان المبارک کی ضرورت اہمیت ✔️ روزہ ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے بڑا تریاق✔️ روزہ انسانیت کا بنیادی وصف اور فطری ضرورت ✔️ انسانوں کی ترقی و بقاءکے لیے ملتِ جامعہ کا تعین ✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں ملت اور دین کی وضاحت✔️ ملتِ جامعہ (قصویٰ)اور دین  میں بڑا فرق ✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کی تعلیمات کی روشنی میں ملت کی حقیقت ✔️ ملتِ قصویٰ کے تحت ارتفاقات و اقترابات کے لیے تین ملتوں کی تشکیل✔️ ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی جامعیت اور دیگر دو ملتوں میں انحرافات✔️ حضرت ابراہیمؑ کا ملتِ نجوم و مجوس کی اساس پر تشکیل پانے والے دین (نظام) کی  خرابیوں کی قرار واقعی حیثیت سے آگاہ کرنا✔️ ملتِ ابراہیمیؑ کے تحت تین ادیان تشکیل پائے✔️ دینِ موسویؑ و عیسوی میں ملتِ نجامیین و طبیعیین کی خصوصیات کا اختلاط✔️ دینِ اسرائیلی میں نسلی حکومت کے خود ساختہ تصورات؛ یہودیت کا فروغ اور تورات میں تحریفات✔️ وحی الہی اور فہمِ وحی کی استعداد و صلاحیت کے فرق کے تناظر میں نبی و مجدد کا فرق سمجھنا ضروری✔️ یہود و نصاریٰ کی خواہشات کی بنیاد پر اصولِ حنیفیت میں معنوی تحریف اور اصلِ ملت کی اتباع کا حکم✔️ جامعیت پر مبنی ملتِ ابراہیمی کی اساس پر دینِ محمدیؐ کا معیاری جادۂ اعتدال✔️ ارتفاقات و اقترابات  کے تقاضوں کے تناظر میں دینِ محمدیؐ کے بنیادی اصول✔️ مقاصدِ نبوت میں سے ایک اہم مقصد؛ انسانیت میں صفتِ احسان پیدا کرنا✔️ حنیفی اصولوں کی روشنی میں طبعی حجابات توڑنے میں روزے کا بنیادی کردار✔️ نصاریٰ کی خواہش پرستی کی بنیاد پر  روزوں میں تغیرات و تبدلات✔️ نبی اکرمؐ کا روزوں میں تحریفات کے خاتمے کا سدِ باب✔️ رمضان کی رسم؛ عبادات و اجتماعیت کا باہمی التزام✔️ قیامِ رمضان (تراویح کی اجتماعیت ) سے تحریفِ قرآن کا دروازہ بند✔️ دین محمدی کی حفاظت کی اساس پر باجماعت تراویح کا اجرا‘ حضرت عمرؓ کا عظیم کارنامہ✔️ حضرت عمرؓ کے لیے حضرت علیؓ کی دعا✔️ دینی رسومات کی اجتماعیت  کاقیام‘ دین دشمن عناصر پر سیاسی رعب پیدا کرنے کا ذریعہ✔️ حکمت کے تناظر میں عوام میں اچھی رسومات پیداکرنا‘ دین کی نصر کا باعث✔️ تراویح محسنین اور رہنماؤں کے لیے اکسیر اعظم ✔️ دینِ قیّم میں رسمِ صالح جاری کرنا‘ حجابات توڑنے کا باعث✔️ رمضان المبارک کے چار اعمال کی پابندی کرنا ضروریبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا✔️
تصفیۂ روح اور بصیرتِ فرقان کا پیغامِ رمضان اور اس کی نمائندہ ولی اللہی تحریکخطبۂ جمعۃ المبارک بتاریخ : 2؍رمضان المبارک 1447ھ / 20؍ فروری 2026ء بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی:شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ (2 – البقرۃ : 185) ترجمہ : ”مہینہ رمضان کا ہے، جس میں نازل ہوا قرآن، ہدایت ہے واسطے لوگوں کے، اور دلیلیں روشن راہ پانے کی، اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی، سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اس کے‘‘۔احادیثِ نبوی ﷺ :1۔ ”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1901) ترجمہ : رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے رکھے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“۔2۔ ”مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". (صحیح بخاری، حدیث: 37) ترجمہ : رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان کے ساتھ اور احتساب کی نیت سے عبادت کرے، اس کے گزشتہ تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں“۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ رمضان المبارک؛ سید الشہور اور عظمت و برکات والا مہینہ✔️ اس ماہِ مبارک میں ذاتِ باری تعالیٰ کی انسانیت کی طرف خاص توجہ✔️ خالص انسانیت کے قلوب خود بخود اللہ کی طرف کھچتے ہیں✔️ زنگ آلود قلوب اور ارواح کی صفائی و ستھرائی کے لیے انبیاءؑ کی بعثت✔️ روح کی پاکیزگی اور الائشوں کی صفائی کے لیے پانچ وقت کی نماز کی فرضیت✔️ روح کی ناپاکی اور زنگ چڑھنے والے فاسد افکار و اعمال✔️ روزے بھی روح کی گندگیوں کے لیے اکسیرِ اعظم✔️ ہدایتِ انسانیت کے لیے واضح نشانیوں اور حق و باطل میں فرق کرنے  والی مقدس کتاب کا نزول✔️ فرقان کا معنی و مفہوم✔️ ہر مادی و روحانی عمل کی روح پر خاص کیفیت و حالت طاری ہوتی ہے✔️ امام انسانی کے واسطے سے کلماتِ طیبہ اور اعمالِ صالحہ تدلی اعظم تک پہنچتے ہیں✔️انسان میں بصیرت و شعور کا تعلق اسی نورانیت سے ہے البتہ استعداد کے درجات مختلف ہیں✔️ نبی اکرمﷺ کل انسانیت کے مسائل حل کرنے کی استعداد اور بصیرت کے حامل✔️ آپؐ کی صحبت سے جماعتِ صحابہ کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوا✔️ قومی و بین الاقوامی رہنماء کی بصیرت و شعور کا معیار اور اولو العزم صحابہ کرامؓ✔️ بصیرت و فرقان کی صلاحیت تمام ارتفاقات و اخلاق کے دائروں میں ہونا چاہیے✔️ کتابِ الہی سے حالت و کیفیت پیدا کرنے کا صحیح طریقۂ کار اور آج کا المیہ✔️ اسی حالت و کیفیت کے ساتھ دینِ اسلام کا بارہ سو سالہ حکومتی نظام کا تسلسل اور انگریز کا پروپیگنڈا✔️ دینِ اسلام کی حکومت کا قیام  بنیادی ہدف نیز شریعت و طریقت سے سیاست سے الگ کرنے کے مذہبی ہتھکنڈے✔️ شعور و بصیرت پر مبنی ولی اللہی تحریک اور اس جماعت کی خصو صیات✔️ مولانا سندھیؒ کی  احسانی کیفیت و حالت پر مبنی شعوری کلماتِ طیبہ اور اعمالِ صالحہ کا ثمرہ‘ ’’شاہ ولی اللہؒ اور ان کی سیاسی تحریک‘‘✔️ رمضان المبارک میں اذکار واعمال سے عقل و شعور اور فہم و بصیرت کی بلندی‘ آج کا پیغامبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
تقریب رونمائی ”ملفوظات رحیمیہ“ مع سوانحی حالات مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کتاب ”ملفوظات رحیمیہ“ کا تعارف  مقرر: محقق العصر فکر ولی اللہی حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری تاریخ: 8؍ فروری  2026ء / 19؍ شعبان المعظم  1447ھ  بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ٹرسٹ لاہور  ۔ ۔ ۔ ۔ خطاب  کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️  ہندوستان پر انگریز سامراج کے ظالمانہ تسلط کا پر آشوب دور ✔️ حضرت شا ہ عبدالرحیم رائے پوریؒ تین اہم مشائخ کے جامع فکر و عمل کے جانشین✔️ ولایتِ نبوت کی حقیقت، تین بنیادی وصف و کمالات اور ان کے اثرات و نتائج ✔️ شریعت، طریقت اور سیاست کی جامع شخصیات اور ان کے تربیت یافتہ حضرات✔️ دار العلوم دیوبند کے نظم و نسق کی درستگی میں شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا کردار✔️ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا دارالعلوم کی بقاء کے لیے وجیہانہ کردار✔️ قطبِ عالم حضرت رائے پوریؒ کا مدرسہ مظاہر العلوم کے لیے بھی حکیمانہ کردار✔️ ہندوستان بھر میں مکاتیبِ قرآنیہ کا قیام  ✔️ تحریکِ ریشمی رومال کے حوالے سےحضرت رائے پوری کی بصیرت پر مبنی سیاسی رائے✔️ حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ کا بیعتِ طریقت اور مسنون اذکار متعین کرنے میں نمایاں تجدیدی کام✔️ حضرت رائے پوریؒ کے جامع ملفوظات بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
رمضان المبارک: روحانی ارتقاء، تحفظِ حقوق اور شیطانی قوتوں کے خلاف تربیتی نظامخطبۃ جمعۃ المبارکبتاریخ: 24؍ شعبان المعظم 1447ھ / 13؍ فروری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی: 1۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ (2 البقرہ: 183)ترجمہ: ”اے ایمان والو فرض کیا گیا تم پر روزہ، جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے پہلے لوگوں پر، تاکہ تم پرہیزگار ہوجاؤ“۔ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ2۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔ (5 – المائدۃ: 90) ترجمہ: ”اے ایمان والو شراب اور جو ا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ“۔ حدیثِ نبوی ﷺ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 5927)ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ: ”(کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا) ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے سوا روزہ کے کہ یہ میرا ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا“🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ اتّباعِ سنت میں رمضان المبارک کی تیاری کا پختہ عزم و ارادہ کرنا ضروری✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی تشریح؛ روزوں کی فرضیت کا معنی و مفہوم ✔️ کائنات کی حاکمیتِ مطلقہ اور منشائے خداوندی؛ حفظ جان و مال اور عزت✔️ تمام شرعی قوانین اور عبادات کا مقصد ان تین حقوق کی حفاظت✔️ کائنات کی ہر مخلوق کے نمائندہ ڈاٹس اور تاثیرات انسان میں کارفرماں✔️ انسان کی صحت و ترقی اور حقوقِ انسانیت کی حفاظت کے قوانین کا نفاذ✔️ ’’كُتِبَ عَلَيۡكُمُ الۡقِصَاصُ فِى الۡقَتۡلٰى‘‘ میں جان کی حفاظت اور ’’كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ‘‘ میں انسانی روح کی ترقی کے قانون کی فرضیت✔️ انسانی روح کے تمام دائروں کی درستگی کا راستہ روزہ ہے نیز صوم کی لغوی و شرعی توضیح✔️ ’’لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ‘‘ میں روزے کے مقاصد و اہداف کا تعین؛ روح کا شدتِ خواہشات سے بچنا ✔️ روح کی پاکیزگی کے لیے رمضان المبارک کا روزہ ضروری✔️ اصلاحِ نفس کے لیے ایامِ بیض میں روزے رکھنے کی حکمت✔️ رمضان المبارک کا مہینہ‘ تعلق مع اللہ کا ذریعہ اور نیکیوں کا موسمِ بہار  ✔️  ”كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ“ میں امام انسانیت سے روزوں کی فرضیت کا ذکر✔️ نصاریٰ کی حکمِ الہی کی خلاف ورزی کا ارتکاب؛ رمضان المبارک کے تیس روزوں میں تغیر و تبدل✔️ تیس روزوں میں تحریفات اور اضافہ کرنے کی وجوہات ✔️ روزہ صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے ہے✔️ روزے دار کے قلب پر حالتِ الہیہ پیدا ہوتی ہے✔️ نورانی اعمال و کلماتِ طیبہ کے تسلسل سے خاص ملکہ و مہارت اور بصیرت پیدا ہوتی ہے✔️ متقی انسان کو یہ بصیرت حاصل اور غلبۂ دین کے لیے کردار✔️ استقبالِ رمضان المبارک کے لازمی امور اور بنیادی ہدایات✔️ ہندو ممبر سندھ اسمبلی کی شراب پر پابندی کی قرارداد اور سندھ اسمبلی کی مخالفت ✔️ شراب تمام مذاہب اور عقل مندوں کے ہاں ناجائز ✔️ رمضان کا غفلت پر مبنی استقبال اور حرام کو حلال قرار دینا‘ غضبِ الہی کو دعوت✔️ رمضان میں شیاطین کو زنجیر پہنانے کا درست مفہوم✔️ رمضان میں انسان نما شیطانوں کا راج✔️ رمضان المبارک‘ مواسات اور ہمدردی کا مہینہ✔️ رمضان المبارک میں کرنے کے چار کام بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
صحیح ترین احادیثِ رسول اللہ ﷺ پر مشتمل امام بخاریؒ کی مایۂ ناز تصنیف ’’صحیح بخاری‘‘ کی تقریبِ تکمیل کے موقع پردرسِ صحیح بخاری شریف مدرس: شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 14؍ رجب المرجب 1447ھ / 4؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔👇 0:00 آغاز درس1:30 بخاری شریف میں نظامِ نبوت کے تناظر میں انسانی اخلاق و اقدار، عمل میں لانے کی اتھارٹیز اور عملی نظام کے امور کی وضاحت؛ دینِ اسلام کا جامع تعارف13:11 وحی الہی سے کتاب کا آغاز اور دینِ اسلام کی فلسفہ و حکمت؛ توحید پر اختتام16:33 انسانی معاشرے میں توحید کے اثرات و نتائج؛ عدل و انصاف کا قیام17:42 توحید کی بنیادی قدر‘ عدل و انصاف پر مشتمل بخاری شریف کا آخری باب18:13 محشر میں وزنِ اعمال کی اساس و بنیاد  21:06 انسانی افعال، اعمال و اقوال کی پیمائش اور وزن کا معیار25:57 آیت کے لفظ ”القسط“ کی تشریح27:54 ”المقسط“ اور ”القاسط“ کے معنی سے ظلم و عدل کا فرق30:17 آخری حدیث کے اسنادی پہلو نیز سلسلہ سند کی ضرورت و اہمیت 33:52 برعظیم پاک و ہند میں بخاری شریف کی سند میں شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ بنیادی کڑی35:06 شیخ الحدیث حضرت اقدس مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری کا سلسلۂ اسنادِ صحیح بخاری 38:25 فہمِ حدیث کی بنیاد اور معروض کے مطابق ولی اللہی مشائخ واکابرین کے اطلاقی پہلو 43:15 آخری حدیث کی تشریح؛ دو کلموں کی تین خصوصیات44:55 فیوض الحرمین کی روشنی میں ان دو کلمات کی تحقیقی بحث46:43 رقائق کی تعریف، اقسام اور اطلاقی پہلو51:27 رقیقہ ظلمانی ونورانی کے تناظر میں غزہ اور وینزویلا میں ظلم و زیادتی کا جائزہ 55:50 دونوں کلمات کا تعلق رقائقِ نورانی نیز ان کی جامع تشریح1:07:01  پیغام فکر و عمل https://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/منجانب رحیمیہ میڈیا
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ریاستی ذمہ داری اور عہد نبوی کی صحت بخش جسمانی سرگرمیوں کے تناظر میں سرمایہ پرست مافیاز کے ثقافتی منکرات  کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکبتاریخ: 17؍ شعبان المعظّم 1447ھ / 6؍ فروری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیاتِ قرآنی:1۔ الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ۔ [22 - الحج: 41] ترجمہ: ”وہ لوگ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے“۔2۔ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا۔ [17 - الإسراء: 64]ترجمہ: ”ان میں سے جسے تو اپنی آواز سنا کر بہکا سکتا ہے بہکا لے اور ان پر اپنے سوار اور پیادے بھی چڑھا دے اور ان کے مال اور اولاد میں بھی شریک ہو جا اور ان سے وعدے کر اور شیطان کے وعدے بھی محض فریب ہی تو ہیں“۔ احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ۔ (الجامع الصّحیح للبُخاري، حدیث: 59)ترجمہ: ”جب (حکومت کے کاروبار) نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر“۔2۔ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ وَأَمَدُهَا ثَنِيَّةُ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ۔ (الجامع الصّحیح للبُخاري، حدیث: 420)ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں کی جنھیں (جہاد کے لیے) تیار کیا گیا تھا، مقامِ حفیاء سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد "ثنیۃ الوداع" تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ "ثنیۃ الوداع" سے "مسجد بنی زریق" تک کرائی۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات0:00 آغاز خطاب✔️ انسانیت اللہ کو بہت محبوب اور الہی محبت کا تقاضا✔️ انسانیت کی کامیابی؛ علمی ترقی اور عملی مہارت کا نظام✔️ حضورﷺ کی تربیت یافتہ جماعتِ صحابہؓ‘ صحیح علم اور درست عمل کا حسین امتزاج✔️ اس حوالے سے خلفائے راشدینؓ کی امتیازی حیثیت نیز جماعتِ صحابہؓ‘ عروة الوثقیٰ (مضبوط کڑا)✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا مصداق‘ اصحابِ محمدﷺ، خلفائے راشدین کے ’’تمکین فی الارض‘‘ کے لیے چار اہم کام✔️ (1) تمکین فی الارض کا پہلا تقاضا؛ انسانیت کو اللہ کے ساتھ جوڑنے کے لیے نماز کا قیام✔️ (2) حالتِ الٰہیہ کے تقاضے سے اللہ کے کنبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال خرچ کرنا✔️ نماز اور زکوة کا چولی دامن کا تعلق✔️ (3) انسانی بھلائی کے معروفات (متفقہ امور) کا حکم اور (4) منکرات (انسانیت کے وجود کے لیے اجنبی کاموں) سے روکنا✔️ مُنکر کی مزید تشریح؛ قومیت کے غلط بیانیے اور فرسودہ تصورات کا شعوری جائزہ✔️ نبی اکرمؐ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں امر بالمعروف کی عملی شکلیں ✔️ ’’نیروز‘‘ اور ’’مہرجان‘‘ محض کھیل کود کے دن تھے✔️ نبی اکرمؐ نے انسانیت کی بھلائی اور یادِ الہی کے لیے دو دن مقرر فرمائے✔️ انسانی سوسائٹی کے مفید کھیل کود اور سرگرمیاں✔️ پہلا واقعہ: حضورؐ کی نگرانی میں ’’حفیاء‘‘ سے ”ثنیۃ الوداع“ تک گھوڑوں کی ڈور کا مقابلہ✔️ دوسرا واقعہ: حبشہ کے قبیلے بنی ارفدہ کا  مسجد میں نیزوں کا کھیل✔️ تیسرا واقعہ: صحابہ کرامؓ کا تیز اندازی کا مقابلہ اور نبی اکرمؐ کی حوصلہ افزائی✔️ مفید سرگرمیاں اور کھیلوں کا شمار معروفات میں اور انہیں رواج دینے کا حکم ✔️ انسانوں اور جانوروں کے لیے نقصان دہ کھیلوں کا تعلق مُنکرات اور انہیں روکنے کا حکم✔️ شیاطین کا منکرات کی بنیاد پر کھیلوں کو پرموٹ (رائج) کرنا✔️ خطبے کی دوسری مرکزی آیت کی توضیح و تشریح✔️ ’’وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ‘‘:  جہالت، انسانیت دشمنی اور ہر قسم کی منکرات کی آواز مراد✔️ ’’وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ‘‘: شیطانی خیالات اور توہمات کے گھوڑے اور پیادے✔️ ’’وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ‘‘ مال و اولاد میں شیطان کے شریک ہونے کا معنی✔️  ’’وَعِدْهُمْ ۚوَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا‘‘ شیطان کی دھوکہ بازی اور وعدہ خلافی✔️ اللہ کے بندوں پر شیطان کا تسلط قائم نہیں ہو سکتا!✔️ شیاطن الانس کی کارستانیاں نیز معاشرے کی صحت بخش اور  مفید سرگرمیاں✔️ مسلم ریاست میں مُنکرات کے فروغ کے دن بدن بڑھتے دائرے✔️ بسنت کا تہوار؛ رہنما و مرشد کے ساتھ تعلیم و تربیت کی اجتماعیت کا عمل✔️ نااہل حکمرانوں کے تسلط سے قومی نظام پر قیامت برپا! ✔️ اسلام، انسانیت اور غریب کا مزاق؟✔️ اشاعتِ منکرات کی وجہ سے اللہ سے معافی مانگنا اور توبہ کرنا ضروری!https://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/
استکباری تسلط کے مقابلے میں عزتِ نفس اور اجتماعی شعور کے داعی نظامِ توحيد کی قرآنی فکرخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:10؍شعبان المعظم  1447ھ /30؍جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما آیاتِ قرآنی:اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ۔لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ۔(النحل: 22-23)ترجمہ: تمہارا معبود اکیلا معبود ہے پھر جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل نہیں مانتے اور وہ تکبر کرنے والے ہیں۔ ضرور اللہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں بے شک وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔  انسانوں کی عزت  اور فضیلت کی اساس؛ اللہ کی بالادستی ✔ (استکبارکی بدخلقی) انسانی اقداراوراعمال کے نتائج سے انکار کا رویہ ✔ مستکبرین کی شیطانی جماعت اور معاشرتی فساد میں اس کا کردار ✔ اللہ کی کبریائی اور عظمت کی سماجی حقیقت اور استکبار کا مرض ✔ وسائل کی جغرافیائی تقسیم اور ان سے استفادہ کے لیے باہمی تعاون کی اساس پر عمرانی معاہدہ ✔ دنیا میں افراتفری  کے ذمہ دار مستکبرین  اور ان کے مقابلے کے لیے واضح نصب العین کی ضرورت ✔ مستکبرین کے  خلاف انبیاء کی جدوجہد اورآج کے مسلمانوں میں موجود وہن کا مرض ✔ استکباری نظام کی آلہ کار، پست ذہنیت کی حامل، مرعوب قیادتیں ✔ عزت نفس کا بنیادی تقاضا عبدیت الہی  اور حضرت عمر کا نظام انصاف کا مطالعہ ✔ دینی اقدار اور حمیت کے لیے عزت نفس  اور اجتماعی شعورکی ضرورت
لھو و لعب کی حقیقت اور اس کے اطلاق کا انحرافی تصور اور صحت بخش ارتفاقی سرگرمیوں کی قرآنی وتاریخی رہنمائی کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارک بتاریخ: 10؍ شعبان المعظم 1447ھ / 30؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور  خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنیوَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ۔ (29 - العنکبوت: 64)  ترجمہ (از حضرت شیخ الہندؒ): ”اور یہ دنیا کا جینا تو بس جی بہلانا اور کھیلنا ہے، اور پچھلا گھر (آخرت) جو ہے سو وہی ہے زندہ رہنا، اگر ان کو سمجھ ہوتی“۔  حدیثِ نبوی ﷺ:الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا، ثُمَّ تَمَنَّى عَلَى اللَّهِ". (سنن ابن ماجہ، حدیث: 4260) ترجمہ: ”عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشوں پر لگا دے، پھر اللہ تعالیٰ سے تمنائیں کرے“۔ 🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ قرآنِ حکیم؛ بلندی فکر اور انسانی کامیابی کی اہم ترین کتاب ✔️ انسانوں کی بلندی کا معیار اور ترقی کی بنیاد‘ علوم نبوت ہیں✔️ نئے علمی زاویے متعارف کرانے والوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ✔️ نبی اکرم ﷺ کی آمد اور علوم ارتفاقات و اقترابات کی بارش ✔️ علوم القرآن و الحدیث کے درست فہم کی ناگزیریت ✔️ قرآن و حدیث کے علوم سے رسمی تعلق کے نقصانات✔️ اعلی علم کے لیے بلند ہمت اور اعلی دماغ لازمی و ضروری✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی تشریح اور سورۂ عنکبوت کا بنیادی موضوع✔️ سورت کا بنیادی موضوع منتخب کرنے کا طریقۂ کار ✔️ دنیا کی زندگی کے ’’لَهْوٌ وَلَعِبٌ‘‘ ہونے کا معنی و مفہوم ✔️ دارِ آخرت کی زندگی کی حقیقت شناسی اور  لہو و لعب کا صحیح مصداق ✔️ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ہاں لہو و لعب کا درست مفہوم ✔️ اس پہلو سے حزب الشیطان اور حزب اللہ کا مقابلہ   ✔️ لہو و لعب کا ادھورا و ناقص تصور ✔️ سماجی و سیاسی اور معاشی امور کو کھیل تماشہ قرار دینا‘ اصل تعلیمات سے انحراف✔️ رسول اللہ ﷺ اور جماعتِ صحابہ کرام کی سماجی و سیاسی اور اقتصادی امور کی انجام دہی‘ لہو و لعب تھا؟✔️ برطانوی سامراج کے تسلط کے بعد کا غلط بیانیہ نیز کسروی کھیل اور سیاسی چال کا سدِ باب کرنے کے لیے حضرت عمرؓ کی ہرمزان سے مشاورت ✔️ غلط پروپیگنڈا نیز تاتاریوں کا قبول اسلام کے بعد غلبۂ دین کے لیے کردار✔️خطبے کی مرکزی حدیث کا معنی و مفہوم ✔️ تمناؤں اور خواہشات کا اسیر‘ لہو و لعب کا مصداق ✔️ سماجی بگاڑ، سیاسی ظلم اور معاشی بدحالی کا شیطانی کھیل اور ”لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ“ کی روشنی میں دعوتِ فکر ✔️ آج کا شعوری پیغام اور مومن کا بنیادی فریضہhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/
ربوبیّتِ اقوام کے اُصول سے انحراف، نوآبادیاتی جبر اورآلۂ کار طبقے کے سماجی بگاڑ کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمٰن حفظہ اللہبتاریخ: ۳؍ شعبان المعظم ۱۴۴۷ھ / 23؍ جنوری  2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) ملتان کیمپسخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی :وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ۔فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُم مِّنْهَا يَرْكُضُونَ۔لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا، إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ۔ (الانبیاء:11-13)ترجمہ: اور ہم نے بہت سی بستیوں کو جو ظالم تھیں غارت کر دیا ہے اور ان کے بعد ہم نے اور قومیں پیدا کیں۔  پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کی آہٹ پائی تو وہ فوراً وہاں سے بھاگنے لگے۔  مت بھاگو اور لوٹ جاؤ جہاں تم نے عیش کیا تھا اور اپنے گھروں میں جاؤ تاکہ تم سے پوچھا جائے۔ ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇✔ اجتماع انسانی میں  باہمی تعاون کا اصول ✔ ربوبیت  اقوام کی اساس پر بننے والے سماجی نظام   ✔ تاریخ   کا اصول اورظالم قوموں  کا انجام ✔ نوآبادیاتی ذہنیت کے سماج پر تباہ کن اثرات ✔ نوآبادیاتی  ارتقاء اور   جبر و استحصال کا قومی دور ✔ پاکستان کی سیاسی و معاشی حقیقت اوراصل نظام کو چھوڑ کر نتائج پر بحث   کارویہ ✔ قانون شکن اشرافیہ اوراستحصال زدہ اکثریت ✔ برصغیر کی تابناک تاریخ اورآزاد مملکت کی حقیقی پہچان ✔  سوسائٹی کے  اصل مرض  کی شناخت ، جماعتوں کے بے معنی ٰ منشور  اور ہماری ذمہ داری
مذہبی انحراف اور نسل پرستی پر استوار عالمی صہیونی تسلط اور قومی شعوری بیداری کا اجتماعی تقاضا خطبۂ جمعۃ المبارک  حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ بتاریخ:  26؍ رجب المرجب 1447ھ /16؍ جنوری 2026ء بمقام:  ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس خطبے کی راہنما قرآنی آیت  وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗؕ-قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَؕ-یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا٘-وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ (المائدہ:18) ترجمہ:  اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہہ دو پھر تمہارے گناہوں کے باعث وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے بلکہ تم بھی اور مخلوقات کی طرح ایک آدمی ہو جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے اور آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے  ۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇  ✔ دین اسلام اور منحرف مذہبی گروہ ✔ علم المخاصمہ (قرانی تعلیمات کی روشنی میں چار منحرف گروہوں کے رویوں کا علمی تجزیہ) ✔ یہود ونصاریٰ کا مفاداتی اتحاد اور نسلی برتری کا دعویٰ ✔ صہیونیت کی حقیقت اور اس کا دائرہ کار✔ ملت ابراہیمی کا قرآنی بیان اور ابراہام اکارڈ ✔ نسلی و مذہبی عنوان اور گروہیتوں کا انسداد ✔ قومی تقاضوں سے ہم آہنگ شعوری جدوجہد کا عصری تقاضا ✔ موجود صہیونی  عالمی نظام کے خلاف عوامی بیداری کی ضرورت ✔ قرآن کا اسلوب بیان اور معاصر تعبیر اور ہماری ذمہ داریاں
قومِ ثمود کے کردار کی روشنی میں "امن" کے نام پر بدامنی کے عالمی کردار کا جائزہ اور نبوی اقترابی و ارتفاقی عادلانہ نظام کی ناگزیریتخطبۂ جمعۃ المبارکبتاریخ: 3؍ شعبان المعظم 1447ھ / 23؍ جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِقرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنیوَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48) ترجمہ: ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔ حدیثِ نبوی ﷺ:”أن رسولَ اللهِ ﷺ نهى أن تُكْسَر سِكَّةُ المسلمينَ“۔ أخرجه البيهقي (11284) واللفظ له، والحاكم (2233)ترجمہ: ”رسولِ اکرم ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مسلمانوں کے رائج سکّوں کو توڑا یا نقصان پہنچایا جائے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ ہر دم پیش آمدہ مسائل اور صراطِ مستقیم پر چلنے کاحکم✔️ انبیاءؑ کی بعثت کا ہدف؛ صراطِ مستقیم کی ہدایت و رہنمائی ✔️ انبیاءؑ کے واسطے سے اقترابات و ارتفاقات کے علوم اور ان کی عملی شکلیں✔️ دور کے علوم الاقترابات و الارتفاقات نبیِ وقت کے ذریعے دنیا میں منتقل ہوتے ہیں✔️ ملاءِ اعلیٰ؛ علوم کا مرکز و منبع اور انسانوں میں سے مقربین بارگاہ الہی اس عمل میں شریک✔️ علوم کے ذریعے سے راہِ ہدایت واضح ہونے کے بعد انسانوں کو اچھے اور برے کا مکمل اختیار✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود کے غلط رویے اور بد اعمالیوں کا تذکرہ✔️ قومِ ثمود کا اپنی تمام تر علمی، عقلی اور عملی صلاحیتوں سے فساد فی الارض مچانا✔️ ’’تسعة رھط‘‘ نو جماعتوں کے سرداروں کا فساد مچانے کا مطلب ✔️ العیاذ باللہ نبیِ وقت (حضرت صالحؑ) کو قتل کرنے کا مزعومہ منصوبہ✔️ نبی اکرمؐ کی آمد کے بعد علوم الاقترابات و الارتفاقات کا واحد ذریعہ ذاتِ گرامیﷺ✔️ کل انسانیت کے لیے رفاقتوں کے آفاقی اصول اور عبادات کا بین الاقوامی منہج‘ رسولِ اکرمؐ نے متعارف کرایا✔️ رحمت کا نظام بنانے میں رسول اللہؐ کے ساتھ کائنات کی مثالی قوتیں شریک کار✔️ وصالِ نبیؐ کے بعد ان قوائے مثالیہ کا خلفائے راشدین کے لیے واضح کردار✔️ بین الاقوامی مالیاتی خرابیاں اور اموی بادشاہ عبدالملک بن مروانؒ کا مالیاتی لین دین کا عادلانہ نظام✔️ مسلمانوں کے غلبے کے بارہ سو سالہ دور میں علوم الارتفاقات و الاقترابات میں حسنہ کا غلبہ برقرار رہا✔️ یورپین بھیڑیوں کا فسادی کردار اور ’’لِمَ تَسۡتَعۡجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبۡلَ ٱلۡحَسَنَةِ‘‘ کے عملی مصداق✔️ ظالمانہ عالمی سرمایہ دارانہ ڈھانچہ اور’’وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ‘‘ کا انطباقی پہلو✔️ لوٹ کھسوٹ کے لیے عالمی لیٹرے‘جوتیوں میں دال بَٹنے کے محاورے کے مصداق اور  ’’وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ‘‘ کی قرآنی پیشن گوئی✔️ فسادی طاقتیں اور ان کے دم چھلہ قوتوں کی ناشکری اور امن وعدل کے نام پر بدامنی و فساد کا عالمی بورڈ؟✔️ مسلمان ممالک کی نعمتوں کی ناشکری اور  فسادی کردار کا انجام‘ سیاسی غلامی اور معاشی بدحالی کے عذاب میں مبتلا✔️ آج کے نام نہاد مسلمان ’’وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ‘‘ کے مصداق تو نہیں؟✔️ کیا امن کے نام پر بورڈ بنانا پچھلے سوسالہ بدامنی پیدا کرنے والوں کے منہ پر تماچہ نہیں؟  ✔️ ’’لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ‘‘ کی پکار اور مسلمانوں اور اقوام و ممالک کے لیے بنیادی پیغامhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/منجانب: رحیمیہ میڈیا
فعل الخیرات کے ابراہیمی و محمدی منہج اور اس کے تاریخی تسلسل کی روشنی میں موجودہ دور کے نظامِ جبر کے خلاف جدوجہد کی اہمیتخطبہ جمعۃ المبارک بتاریخ: 26؍ رجب المرجب 1447ھ / 16؍ جنوری 2026ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور خطبے کی رہنما آیتِ  قرآنی واحادیثِ نبوی ﷺ: آیتِ قرآنی: وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ۔ (21 – الأنبیاء: 73)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ): ”اور ہم نے انھیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کیا کرتے تھے اور ہم نے انھیں اچھے کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ ہماری ہی بندگی کیا کرتے تھے“۔ احادیثِ نبوی ﷺ:1۔ ”‌خَيْرُ ‌النّاسِ ‌مَن ‌يَّنْفَعُ ‌النّاسِ“۔ (المبسوط للسرخسي 30/ 252)ترجمہ: ”لوگووں میں سے بہترین وہ ہے، جو لوگوں کو نفع دے“۔ 2۔ الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ، حَيْثُمَا وَجَدَهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4169]ترجمہ: ”حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے“۔🔸 خطبۂ جمعہ: نکات✔️ انبیاءؑ کی خصوصیت؛ معروضی حالات میں بروقت درست رہنمائی✔️ علم وفکر کی اساس پر قائم محدود عملی شکل ✔️ دو اہم باتیں؛ بروقت حکم و فیصلہ اور اس کے مطابق عملی طریقۂ کار کا تعیّن✔️ خطبے کی مرکزی آیت کا پسِ منظر اور تشریح و توضیح✔️ مشہور قصے کے تناظر میں حضرت ابراہیمؑ کی رشد وہدایت اور فعل الخیرات؛ غور وفکر کی دعوت اور فعل المنکرات پر تنبیہ✔️ ملتِ ابراہیمی کے ائمہ وھداة کو فعل الخیرات کی وحی اور معروض کے مطابق بے لاگ کردار✔️ حضرت ابراہیمؑ کے فعل الخیرات کے قلوب و اَذہان پر اثرات✔️ ائمۂ ھدیٰ کی دو خصوصیات✔️ کلامِ الہی کی پانچ نشئات نیز نشأةِ نسمہ محمدیﷺ کی وضاحت✔️ اسمِ ہادی کا نورِ محمدیؐ پر ظہور اور تا قیامت فیضان جاری✔️ ہر دور کے نبی کا فعل الخیرات کا منہج اور طریقۂ کار✔️ نورِ محمدیؐ سے انبیاءؑ کے فعل الخیرات کی تکمیل✔️ حضرت عیسیٰؑ رسول اللہؐ کے ارہاص✔️  شریعت و طریقت کے فعل الخیرات پر بحث لیکن سیاست اور غلبۂ دین میں اس سے پہلو تہی✔️ آج افراد و اقوام اور ریاستوں کی غلامی کے دور میں فعل الخیرات کا تعین کرنا ضروری✔️ دورِ زوال میں ولی اللہی سلسلے کے علماء کی خصوصیت؛ دور کے تقاضے کے مطابق فعل الخیرات کے لیے کردار✔️ آج کے فرعون و نمرود اور قیصر وکسریٰ کا مقابلے کرنے کے لیے فعل الخیرات کیا ہے؟ ✔️ مضبوط قومی جمہوریت کی ناگزیریت اور سامراجی کھیل✔️ جمہوریت کے خلاف پیش کی جانے والی آیت کا درست مفہوم✔️ جمہوری جدوجہد کے تناظر میں علمائے حق کے فعل الخیرات کا جائزہ✔️ ائمۂ ھدیٰ کا فعل الخیرات کا کام‘ بطور عبادت اور رضائے الہی کا ذریعہ✔️ زوال کا بڑا سبب اور علم فعل الخیرات کا عصری تقاضا https://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/منجانب: رحیمیہ میڈیا
قرآن حکیم کی نمائندہ انسانی تہذیب کے تناظر میں موجودہ استحصالی ورلڈ آڈر کے انسانیت دشمن کردار کا جائزہخطبہ جمعۃ المبارکحضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہبتاریخ:19؍ رجب المرجب  1447ھ /9؍ جنوری 2026ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپسخطبے کی راہنما قرآنی آیتلَا یَنْهٰكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(8)اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔(الممتحنہ:8-9)ترجمہ: اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تمہیں اللہ انہیں سے منع کرتا ہے کہ جو دین میں تم سے لڑے اور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے پر (لوگوں کی) مدد بھی کی کہ ان سے دوستی کرو اور جس نے ان سے دوستی کی تو پھر وہی ظالم بھی ہیں۔۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 0:00 آغاز00:59 مظلوم طبقات  کی حفاظت؛ انبیاء کی جدوجہد کا محور06:51  دین اسلام کا بنیادی مقصد؛ ظلم کا خاتمہ، انسانی حقوق کی حفاظت11:29  قومی اور انسانی  وسائل کے متعلق دین کا بین الاقوامی اصول17:46  عالمی استحصالی انجمن اور اس کے ہتھکنڈے20:19  اقوام سے تعلقات کے دینی اصول26:16  مسلم دور کے عالمی نظام کا مروج نظام سے موازنہ 31:25  دین اسلام کا جنگ کا اصول اور تقسیم انسانیت کا سامراجی طریق کار 36:24  باہمی تعاون پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کا دینی اصول 42:25  استحصال کا عالمی نظام اور عدل و انصاف کے مسلم ورثہ کے تعارف کی ضرورتhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute/ منجانب رحیمیہ میڈیا
خیر و حکمت کا جامع قرآنی تصور ، اس کے قیام میں امت کے طبقات کا کردار اور معروضی تقاضےخطبہ جمعۃ المبارکبتاریخ: 19؍ رجب المرجب 1447ھ / 9؍ جنوری 2025ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہورخطبے کی رہنما آیتِ قرآنی وحدیثِ نبوی ﷺ:آیتِ قرآنی:وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا۔ (2 – البقرۃ: 148)ترجمہ (از حضرت لاہوریؒ) ”اور ہر ایک کے لیے ایک طرف ہے، جس طرف وہ منہ کرتا ہے، پس تم نیکیوں کی طرف دوڑو، تم جہاں کہیں بھی ہو گے تم سب کو اللہ سمیٹ کر لے آئے گا “۔حدیثِ نبوی ﷺ:اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ۔ (جامع ترمذی، حدیث: 3235)ترجمہ: ” اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں “  ۔۔۔ خطبے کے چند مرکزی نکات ۔۔۔ ✔️فکری سمت کے تعین اور خیر میں سبقت کا  قرآنی حکم✔️خیر بطور منظم عملی نظام، نہ کہ محض نیت یا جذبہ ✔️ہر فرد، خاندان، قوم اور ریاست کی ایک وِجْہَة✔️ بیت المقدس کی طرف سترہ ماہ رخ اور دعوتی حکمت✔️ بیت اللہ الحرام بطور عالمی قبلہ اور دعوت میں تدریج✔️ سمت کے مقابلے میں خیر کی اصل اہمیت اور جامع مفہوم✔️ نیکی میں مقابلہ: فعلُ الخیرات بمقابلہ فعلُ المنکرات✔️خیر کی متحرک حیثیت اور حکمت کے ساتھ اس کی صورت✔️ حکمت بطور خیرِ کثیر کا قرآنی اصول✔️علمُ الحکمة بطور قرآن کا بنیادی اور اولین علم✔️حکمتِ نظری اور حکمتِ عملی کے دائرے✔️موعظتِ حسنہ کے بعد فعلُ الخیرات کا مرحلہ✔️فعلُ الخیرات بطور امرِ الٰہی کو عملی شکل دینا✔️امامت: وعظ نہیں بلکہ ہدایت بالامر اور اجتماعی نظم✔️حضرت ابراہیمؑ کی امامت اور امام کی دو بنیادی صفات✔️نماز کا عملی نظام بطور فعلُ الخیرات کا نمونہ✔️نَسَمَہ کا اسمِ الہادی سے رنگین ہونا اور عمل کا ظہور✔️ صِبْغَةُ اللّٰہ: عقل، قلب اور نفس کی ہم آہنگی✔️منکر بطور انسانیت دشمن عمل اور ترکُ المنکرات✔️نبوی دعا: فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات کی اہلیت✔️ہر مومن بطور امام اور حدیثِ راعی کا تصور✔️خلفائے راشدین، فقہاء، محدثین اور اولیاء کا منہج✔️فقہی قانون سازی میں حکمت کا تنوع✔️امام بخاریؒ کا حدیثی منہج بطور فعلُ الخیرات✔️اولیاء اللہ کا تزکیۂ نفس اور روحانی تطبیق✔️ہر دور میں حالات کے مطابق فعلُ الخیرات کی تعیین✔️1920 کے بعد ولی اللّٰہی جماعت اور قومی وحدت اور نیشنل ازم ✔️نَسَمَہ کی ہدایت اور فعلُ الخیرات بطور زندگی کا منہج✔️فعلُ الخیرات اور ترکُ المنکرات بطور نجات کا قرآنی راستہ منجانب رحیمیہ میڈیا
loading
Comments 
loading