Discover
Akhlaaq with Haziqah
Akhlaaq with Haziqah
Author: Akhlaaq with Haziqah
Subscribed: 1Played: 4Subscribe
Share
© Akhlaaq with Haziqah
Description
Welcome to Akhlaaq with Haziqah! Join us on a transformative journey of moral development through captivating stories, insightful podcasts, and engaging blogs. Explore the principles of Akhlaaq (good manners and ethics) and learn how to apply them in everyday life. Visit https://akhlaaqwithhaziqah.podia.com/ for the podcast, story blogs, and soon-to-be-released animated cartoon series. Let's inspire children to become better individuals together.
15 Episodes
Reverse
ایک دن زارہ اپنے الماری سے اپنے پرانے کپڑے نکال رہی تھی۔
ابراہیم نے جب یہ دیکھا تو اس سے پوچھا "دیدی کیا کر رہی ہو؟"
تو زارا نے جواب دیا "میں اپنے پرانے کپڑے بیت المال کو دے رہی ہوں۔"
"بیت المال کو کیوں دے رہی ہو؟" ابراہیم نے زارا سے پوچھا۔
زارا نے جواب دیا "تاکہ وہ میرے کپڑے غریب بچوں کو دے سکیں جن کے پاس پہننے کے لیے کپڑے نہیں ہیں"
"واہ، یہ تو بہت اچھا آئیڈیا ہے دیدی، کیا ان کے پاس کھانے کے لیے بیسکٹس ہیں؟" ابراہیم نے دوبارہ زارا سے پوچھا۔
"شاید ان کے پاس نہ ہوں" زارا نے جواب دیا۔
اسی دوران ان کے والد کمرے میں داخل ہوئے اور ان سے پوچھا "بچوں تم کیا کر رہے ہوں؟"
زارہ نے جواب دیا "ڈیڈی میں اپنے پرانے کپڑے اچھے سے گھڑی کررہی ہوں تا ک ہم انہیں بیت المال میں دے سکے "
زارہ کے والد یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور زارہ سے کہا "ماشااللہ تم نیک لڑکی ہو"
تب ابراہیم نے اپنے ڈیڈی سے کہا، "ڈیڈی، میں بھی وہ extra بیسکٹس بیت المال کو دینا چاہتا ہوں تاکہ غریب بچے بیسکٹس کھا سکیں۔"
"بہت اچھا، میرے پیارے بچے، ضرور ہم وہ extra بیسکٹس بیت المال کو دیں گے، انشاء اللہ" ان کے والد نے جواب دیا۔
پس حذیقہ جب کوئی مہربان ہوتا ہے اور دوسروں کو دیتا ہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں کئی گنا زیادہ دیتا ہے۔
اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے...
جو لوگ اپنے مال کو دن رات چھپے اور کھلے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (2:274)
One day Zaarah was taking out her old clothes from her wardrobe.
When Ibraheem saw this, he asked her, "Didi, what are you doing?"
So Zaarah replied, "I am giving my old clothes to ‘Bait-ul-Maal’."
"Why are you giving those clothes to ‘Bait-ul-Maal’?" Ibraheem asked Zaarah.
Zaarah answered "So that they can give my clothes to poor children, who don't have clothes to wear"
"Wow, that's a great idea Didi, do they have biscuits to eat?" Ibraheem asked Zaarah again.
"Maybe they don't have any," Zaarah replied.
Meanwhile, their father entered the room and asked them, "Children, what are you doing?"
Zaarah replied, "Daddy, I am making my old clothes ready so that we can give them to Bait-ul-Maal."
Zaarah's dad was very happy to hear this and said to Zaarah "Mashallah you are a good girl".
Then Ibraheem said to his father, "Daddy, I also want to give those extra cookies to Baitul-Mal so that the poor children can eat cookies."
"Very well, my dear son, of course we will give those extra cookies to ‘Bait-ul-Maal, Inshallah,” replied their father.
محمد اور خالہ فاطمہ سردیوں کی چھٹیاں گزارنے زارا کے گھر آئے تھے۔ زارا، ابراہیم، اور محمد نے مختلف انڈور اور آؤٹ ڈور گیمز کھیلے۔
محمد کو اکثر ابراہیم کی " ٹرین کا کھلونا" سے کھیلنا پسند تھا۔ محمد کی طرف سے حادثاتی طور پر کھلونا ٹرین کا ایک ٹائر ٹوٹ گیا۔
ابراہیم نے کہا ’’میرا پسندیدہ کھلونا ٹوٹ گیا‘‘ اور وہ رونے لگا۔
"مجھے افسوس ہے، یہ ایک حادثہ تھا،" محمد نے ابراہیم سے کہا۔
خالہ فاطمہ کو حالات کا علم ہوا اور پھرخالہ فاطمہ نے ابراہیم سے کہا کہ "ہم تمہارے لیے نئی ٹوائے ٹرین خریدیں گے، فکر نہ کرو"۔
ابراہیم نے کہا "میں جانتا ہوں کہ یہ محمد کی غلطی نہیں تھی، یہ غلطی سے ٹوٹ گیا، اس لیے میں اسے معاف کرتا ہوں اور مجھے نیا نہیں چاہیے۔ میں اس کی مرمت کر کے کھیلوں گا"۔
Mohammed and Aunt Fatimah came to Zaara's house to spend the winter holidays. Zaara, Ibraheem, and Muhammad played different indoor and outdoor games.
Muhammed often liked playing with Ibraheem's toy train. Accidentally by Muhhmed one of the tires of the toy train broke.
Ibraheem said “My favourite toy broke” and he started crying.
“I am sorry, that was an accident,” Muhammed said to Ibraheem.
Aunt Fatimah came to know about the situation and then said to Ibraheem “We will buy a new toy train for you, don’t worry”
Ibrhaeem said “ I know it was not Muhammed’s mistake, it was broken accidentally so I forgive him and I don't want a new one. I will repair this one and play.”
ایک دن سلمان کی ممی نے رات کے کھانے میں چکن فرائی، گلاب جامن، بریانی کے ساتھ روٹی جیسی کئی ڈشیں بنائیں۔ اور چکن فرائی سلمان کی پسندیدہ ڈش تھی۔
سلمان اور اس کی ممی سلمان کے پاپا کا آفس سے آنے کا انتظار کر رہے تھے، تاکہ وہ ایک ساتھ ڈنر کا کرسکے۔
سلمان نے اپنی ماں سے کہا "ممی، پاپا کو گھر آنے میں کتنا وقت لگے گا؟"
سلمان کی ماں نے جواب دیا، "سلمان، فکر نہ کرو، وہ وقت پر پہنچ جائے گے، انشاللہ۔"
ممی مجھے بھوک لگ رہی ہے، سلمان نے جواب دیا۔
ماں نے سلمان سے کہا ’’بس مزید 5-10 منٹ انتظار کرو بیٹا‘‘
اتنے میں اس کے پاپا گھر پہنچ گئے۔
سلمان کی ممی جب dining table پر سب کچھ رکھ رہی تھی تب سلیمان رو رہا تھا، تو سلمان اور اس کے پاپا نے رات کا کھانا میز پر رکھنے میں سلمان کی والدہ کی مدد کی۔
سلمان کو بہت بھوک لگی تھی، وہ بسم اللہ پڑھے بنا ہی چکن فرائی کھانے لگا۔
سلمان کے پاپا نے پوچھا کیا تم نے کھانے سے پہلے بسم اللہ کہی ہے؟
سلمان نے جواب دیا "نہیں"
سلمان کے پاپا نے کہا کہ ہمیں کھانے سے پہلے بسم اللہ اور کھانے کے بعد الحمدللہ پڑھنا چاہیے۔
سلمان نے کہا بسم اللہ، آج کا کھانا بہت لذیذ ہے، الحمدللہ۔
پھر سب نے ڈنر کا لطف اٹھایا اور عشاء کی نماز پڑھ کر سو گئے۔
حذیقہ، جب بھی ہم کوئی کام شروع کریں توبسم اللہ کہنا چاہیے اور اگر کوئی کام مکمل کریں تو الحمدلله کہنا چاہیے۔
حذیقہ: ابّو، مجھے تو آج کی کہانی بہت اچھی لگی۔
ابّو: مجھے بھی بہت اچھی لگی۔۔








