Discoverکیا آپ واقعی پانی اور روح سے اَز سرِ نَو پیدا ہوئے ہیں؟
کیا آپ واقعی پانی اور روح سے اَز سرِ نَو پیدا ہوئے ہیں؟
Claim Ownership

کیا آپ واقعی پانی اور روح سے اَز سرِ نَو پیدا ہوئے ہیں؟

Author: The New Life Mission

Subscribed: 2Played: 22
Share

Description

اِس عنوان کا بنیادی مضمون "پانی اور رُوح سے نئےسرےسے پیدا ہونا ہے۔" یہ اِس مضمون پر قوتِ تخلیق رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کتاب واضح طور پر بتاتی ہے کہ بائبل کے مطابق ہُوبہو، نئے سرے سے پیدا ہونا کیا ہے اور پانی اور رُوح سے نئے سرے سے پیدا ہونے کا طریقہ کیا ہے۔ پانی یردن میں یسوع کے بپتسمہ کی علامت ہے اور بائبل بتاتی ہے کہ ہمارے تمام گناہ یسوع پر اُس وقت منتقل ہوگئے تھے جب اُس نے یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ لیا تھا۔ یوحنا تمام بنی نوع انسان کا نمائندہ اور سردار کاہن ہارون کی نسل میں سے تھا۔ ہارون قربانی کے بکرے کے سر پر اپنے ہاتھوں کو رکھتا اور بنی اسرائیل کے تمام سالانہ گناہوں کو کفارہ کے دن اُس پر منتقل کر دیتا تھا۔ یہ آنے والی اچھی چیزوں کا عکس ہے۔ یسوع کا بپتسمہ ہاتھوں کے رکھے جانا کا مشابہ ہے۔
یسوع نے یردن پر ہاتھوں کے رکھے جانے کی صورت میں بپتسمہ لیا تھا۔ چنانچہ اُس نے اپنے بپتسمہ کے ذریعہ دُنیا کے تمام گناہوں کو مٹا دیا اور گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لئے مصلوب ہوا تھا۔ لیکن زیادہ تر مسیحی نہیں جانتے کہ یسوع نے دریائے یردن میں یوحنا اصطباغی سے کیوں بپتسمہ لیا تھا۔ یسوع کا بپتسمہ اِس کتاب کا معنی خیز، اور پانی اور رُوح کی خوشخبری کا ناگزیر حصہ ہے۔ ہم صرف یسوع کے بپتسمہ اور اُس کی صلیب پر ایمان رکھنے سے ہی نئے سرے سے پیدا ہوسکتے ہیں۔

https://www.bjnewlife.org/ 
https://youtube.com/@TheNewLifeMission 
https://www.facebook.com/shin.john.35 
8 Episodes
Reverse
یوں، مختلف افراد کے درمیان گناہ کی تعریف مختلف ہے۔ ہر شخص کے ذاتی معیار پرانحصارکرتے ہوئے ایک ہی عمل گناہ خیال کیا جا سکتا ہے یا نہیں بھی کیا جا سکتا۔ اِس بنا پر یہ ہے کیوں خداوند خداہمیں گناہ کے حتمی معیار کے طور پراستعمال ہونے والی شریعت کی۶۱۳شقیں عطاکر چُکا ہے۔ https://www.bjnewlife.org/ https://youtube.com/@TheNewLifeMission https://www.facebook.com/shin.john.35 
جب ہم درحقیقت خود پر نظر کرتے ہیں،تویہ اَمرظاہر ہے کہ ہم فقط گناہ کاڈھیر ہیں۔ بنی نوع انسان کیا ہیں؟ انسان محض ’’بدکرداروں کی نسل‘‘ ہیں۔یسعیاہ۵۹میں، کلام فرماتا ہے کہ لوگوں کے باطن میں ،تمام قسم کی بدیاں پائی جاتی ہیں۔ اِس لئے،یہ بات واضح ہے کہ لوگ گناہ کا ڈھیرہیں۔تاہم، اگر ہم نسلِ انسانی کو گناہ کے ڈھیر کے طور پر بیا ن کریں، تو بہت سارے لوگ اتفاق نہیں کریں گے۔لیکن، کسی شخص کو 'بدکرداروں کی نسل' کے طور پر بیان کرنا ہی صحیح تعریف ہے۔ اگر ہم دیانتداری سے خود پر نظر کریں، تویہ بات مبینہ طور پر ظاہر ہے کہ ہم بدکارلوگ ہیں۔ وہ لوگ جو خود کے ساتھ دیانتدار ہیں اُنہیں یقیناًاِسی نتیجہ پر پہنچنا چاہئے۔ https://www.bjnewlife.org/ https://youtube.com/@TheNewLifeMission https://www.facebook.com/shin.john.35 
لوگ اپنے ہی گناہوں کے وجود کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ایسالگتا ہے کہ لوگ بھلائی کرنے کے قابل نہیں ، تاہم، وہ خود کوبطور نیک بیان کرنے کا رُجحان رکھتے ہیں۔وہ اپنے نیک اعمال کی ڈینگیں مارتے ہیں اوراِتراتے ہیں،اگرچہ وہ اپنے ہونٹوں کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ گناہ گار ہیں۔ https://www.bjnewlife.org/ https://youtube.com/@TheNewLifeMission https://www.facebook.com/shin.john.35 
یسو ؔع نے ہمیں ابدی خلاصی عطا کی۔عالمِ کل میں ایک بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو نجات یافتہ نہیں ہو سکتا بشرطیکہ وہ مرد/ عورت یسوؔع پر نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھتا ہو۔اُس نے ہم سب کو چُھڑا لیا۔اگر کوئی ایسا گناہ گار ہے جو اپنے گناہوں میں تڑپتا ہے، تو یہ اُس آدمی کے ناقص تصور کی وجہ سے ہے کہ کیسے یسوؔع مسیح ہر مذکرو مؤنث کو اُس کے تمام گناہوں سے اپنے بپتسمہ اور مصلوبیت کے ساتھ آزاد کر چُکا ہے۔ https://www.bjnewlife.org/ https://youtube.com/@TheNewLifeMission https://www.facebook.com/shin.john.35 
اِس کے باوجود ہمارے ربِ عالم نے ایک عہد باندھا جو پیدایش۳:۱۵ میں مرقوم ہے، اور وہ عہد یہ تھا کہ وہ تمام پاپیوں کو آزاد کرے گا۔ اُس نےفرمایا کہ نوعِ انسان پانی اور رُوح کی وساطت سے یسوؔع مسیح کی قربانی کی بدولت اپنے گناہوں سے رہائی پائیں گے۔ جب وقت آپہنچا، توربِ قادرنے ہمارے نجات دہندہ، یسوؔع کو بھیجا کہ ہمارے درمیان زندگی بسر کرے۔ https://www.bjnewlife.org/ https://youtube.com/@TheNewLifeMission https://www.facebook.com/shin.john.35 
loading
Comments